بھارتی سائبرحملوں کےخدشات،کابینہ ڈویژن کی تمام ڈویژنزکوایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بھارتی سائبر حملوں کے خدشات کے پیش نظر کابینہ ڈویژن کی تمام ڈویژنز کو ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے ۔
ایڈوائزری میں کہا گیاہے کہ پاکستانی حکام کو نشانہ بنانے والی ایک حالیہ فشنگ مہم دیکھی گئی ہے، یہ سائبر حملہ مبینہ طور پر انڈین تھریٹ ایکٹرسائیڈ ونڈر سے منسلک ہے، یہ تھریٹ ایکٹر پاکستان میں پچھلے کچھ سال سے سرگرم ہے، اس سائبر حملے کیلئے فشنگ ای میلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایڈوائزری کا کہناتھا کہ سائبرحملوں میں پاکستانی حکام کو نشانہ بنایا جاتا ہے، سائبرحملوں میں حساس اداروں کے سائبر سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ کا نام استعمال کیا جاتا ہے، مختلف اداروں کے ملازمین کو فشنگ اور سوشل انجینئرنگ حملوں کا شکار ہونے کیخلاف تربیت دی جائے، فشنگ ای میلزکا پتہ لگانے اور بلاک کرنے کیلئے ای میل فلٹرنگ سلوشنز،مالویئر اور اسپین چیک لگایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔