پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ صنم جاوید کی مشکلات میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
سٹی42: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ صنم جاوید کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے ان کی طلبی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صنم جاوید کو صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی مبینہ جعلی ویڈیوز کیس میں گرفتار کیا جائے گا۔ عظمیٰ بخاری کی مدعیت میں نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCIA) میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں صنم جاوید سمیت دیگر افراد پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا الزام ہے۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
مقدمے کی تفتیش کے دوران سائبر کرائم ونگ نے پہلے ہی صنم جاوید کے شوہر کو گرفتار کر رکھا ہے جبکہ ان کی بہن فلک جاوید کو بھی ایجنسی نے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ صنم جاوید پہلے ہی اسلام پورہ تھانے میں درج مقدمے میں گرفتار ہو کر 15 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ اب جیل سے لا کر انہیں عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیوز کیس میں شاملِ تفتیش کیا جائے گا۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔