اپنی تقریر کو سینسر کرنے پر عمر ایوب کا سپیکر قومی اسمبلی کو خط
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
عمر ایوب کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آپ کی رولنگ اور ایوان میں دی گئی ذاتی یقین دہانی کے باوجود میری تقریر کو سینسر کیا گیا اور قومی اسمبلی کے میڈیا اور فوٹوگرافی ونگ کی جانب سے پارلیمانی کارروائی اور بحث کے تسلسل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ایوان میں اپنی تقریر کو سینسر کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں بھی قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے اس وقت ملتوی کر دیا گیا تھا جب اپوزیشن لیڈر کی قانون سازی میں جلد بازی پر کی گئی تنقید کو اسمبلی کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا تھا۔ عمر ایوب کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آپ کی رولنگ اور ایوان میں دی گئی ذاتی یقین دہانی کے باوجود میری تقریر کو سینسر کیا گیا اور قومی اسمبلی کے میڈیا اور فوٹوگرافی ونگ کی جانب سے پارلیمانی کارروائی اور بحث کے تسلسل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دباؤ کا عمل آپ کی واضح یقین دہانی کی خلاف ورزی ہے اور اس سے پارلیمانی امور کی شفافیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خط میں انہوں نے کہا کہ بطور قائد اپوزیشن لیڈر میں نے باضابطہ درخواست کی تھی اور آپ کی طرف سے بطور اسپیکر یہ یقین دہانی ملی تھی کہ میری تقریر کسی رکاؤٹ کے بغیر براہ راست نشر کی جائے گی تاکہ بحث کے پارلیمانی حق کا تحفظ کیا جاسکے جو نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن کے تمام اراکین کا حق ہے۔
عمر ایوب خان نے مزید کہا کہ یہ یقین دہانی واضح طور پر قومی اسمبلی کے سرکاری ٹی وی چینل پر براہِ راست نشریات اور قومی میڈیا نیٹ ورکس کی کوریج تک محیط تھی۔
خط میں کہا میں نے قومی اسمبلی کے جنرل میڈیا اور فوٹوگرافی ونگ سے اپنی تقریر کی سرکاری آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ تک رسائی کی درخواست کی تھی مگر یہ درخواست کسی قانونی جواز کے بغیر مسترد کر دی گئی، حالانکہ اسپیکر کی جانب سے تقریر کے کسی بھی حصے کو حذف کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل طاہر حسین اور ڈائریکٹر جنرل (میڈیا) ظفر سلطان خان آپ کے حکم پر عمل درآمد کے پابند تھے لیک انہوں نے اس حکم کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا۔ پی ٹی آئی رہنما نے خط میں آئین کے آرٹیکل 66 کا حوالہ دیا، جس میں ارکان اسمبلی کے حقوق کی بات کی گئی ہے جو پارلیمنٹ میں مکمل آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے جب کہ اس آرٹیکل کے تحت کسی رکن کے ایوان میں کہے گئے کسی بھی بیان یا دیے گئے ووٹ پر کسی عدالت میں کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ آئینی ضمانت ارکان کو آزادانہ اظہار رائے اور ان کی آواز ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ سنے جانے کا حق فراہم کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تقریر کو سینسر قومی اسمبلی کے یقین دہانی کی جانب سے ایوان میں عمر ایوب
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔