مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف مساجد میں نماز پر پابندیوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے وجود اور آزادی سے عبادت کرنے کے حق کو نشانہ بنانے کے بارے میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام میں دہشتگردانہ حملے کے بعد مسلسل مسلمانوں کے خلاف نفرت جاری ہے۔ اب یہ نفرت دیہی علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔ مسلمانوں کو مختلف طریقے سے پریشان کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے والوں کے شناختی کارڈ چیک کئے جا رہے ہیں۔ دریں اثناء پونے کے کچھ گاؤں میں ہندو شدت پسندوں نے باقاعدہ پوسٹر چسپاں کر کے مسلمانوں کو گاؤں میں داخل ہونے اور نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پونے ضلع کی تحصیل ملشی میں کئی گرام پنچایتوں نے قراردادیں منظور کی ہیں کہ مسلمانوں کو مساجد میں نماز ادا کرنے سے روک دیا جائے، خاص طور پر جمعہ کی نماز کے لئے۔ پیرنگوت، گھوٹاواڑے، وڈکی اور لاوالے سمیت دیہاتوں میں بینر اور عوامی نوٹس لگائے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ صرف مقامی باشندوں کو گاؤں میں رہنے کی اجازت ہوگی۔

اگرچہ دہشت گردانہ حملہ اس دیہاتوں سے 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور پہلگام کشمیر میں پیش آیا ہے لیکن اس حملے کے بعد بھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو لہر شروع کی گئی ہے وہ دور دراز علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ یکم مئی کو پیرنگوت گرام پنچایت نے ایک رسمی قرارداد منظور کی جس میں اس پابندی کو پیرنگوت جامع مسجد میں لاگو کیا گیا، جو کہ تعلقہ کی سب سے بڑی مسجد ہے، اس پر عمل کرنے کے لئے مسجد کے ذمہ داروں کو مجبور کیا گیا ہے۔ لاوالے کے ایک رہائشی شائستہ خان انعامدار نے کہا کہ ہم خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا "اس سے پہلے بھی ہم نے مسجد میں نماز پڑھنا بند کر دی تھی کیونکہ یہ ایک مندر کے بالکل ساتھ ہے اور تناؤ بڑھ رہا تھا، اب اس کے بعد ہم گاؤں کے باہر ایک چھوٹے سے شیڈ میں نماز پڑھ رہے ہیں"۔

پولیس کے رویہ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ جبکہ پولیس ایسی قراردادوں سے واقف ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کی گئی ہے اور نہ ان اقدامات سے قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پیرنگوت پولیس اسٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے تسلیم کیا کہ جمعہ کی نماز کے دوران باہر کے لوگوں کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیہاتیوں نے دیا، جس سے پنچایتوں کو کارروائی کرنے پر باور کیا گیا۔ تاہم مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ زیادہ  گہرا ہے۔ یہ صرف مساجد میں نماز پر پابندیوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے وجود اور آزادی سے عبادت کرنے کے حق کو نشانہ بنانے کے بارے میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے بارے میں گئی ہے کے بعد

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت