بھارتی جارحیت پر پاک فوج کے بھرپور جواب پر ہمارے سر فخر سے بلند ہیں: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے جس طرح بھارتی جارحیت کا جواب دیا ہمارے سر فخر سے بلند ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت کا کوئی جواز نہیں تھا، یہ نہتے شہریوں پر حملہ ظلم تھا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہر ظلم کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارا دفاعی نظام ملک کی خاطر کھڑا ہے اور ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے تمام جہاز محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات بھارتی فوج کی جانب سے کیے گئے بزدلانہ حملوں میں اب تک 26 پاکستانی شہید جبکہ 43 زخمی ہوئے ہیں۔
پاک فوج نے بھارتی فوج کے ان بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور اب تک بھارت کے 5 طیارے، ڈرون، انفنٹری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور 6 مہار یونٹ کے بٹالین ہیڈ کوارٹر کو تباہ کردیا۔
پاک فوج کی بروقت اور بھرپور کارروائی کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول پر سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔