اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 مئی 2025ء) عمان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مسقط نے واشنگٹن اور صنعاء میں حوثی قیادت سے وسیع مشاورت کی، جس کے نتیجے میں دونوں فریق جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ مستقبل میں نہ تو امریکی افواج حوثیوں کو نشانہ بنائیں گی اور نہ ہی حوثی بحر احمر یا باب المندب میں امریکی جہازوں کو ہدف بنائیں گے۔

اس موقع پر سلطنت عمان نے دونوں فریقوں کے "مثبت اور تعمیری رویے" کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن، انصاف اور خوشحالی کی بنیاد رکھے گا۔

یمن: حوثیوں کے خلاف جنگ، امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ یمن میں حوثیوں پر بمباری بند کر دے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایران سے منسلک گروپ نے مشرق وسطیٰ میں اہم بحری راستوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنے سے اتفاق کیا ہے۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ، اکتوبر 2023 میں اسرائیل-غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران سے منسلک گروپ کے موقف میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی حوثی باغیوں کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے کہا، "حالیہ بات چیت اور رابطوں کے بعد.

.. کشیدگی کو کم کرنے کے مقصد سے، کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے"۔

امریکہ نے اس سال یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں پر حملے تیز کر دیے تھے، تاکہ بحیرہ احمر کی جہاز رانی پر ہونے والے حملے بند کیے جا سکیں۔

حوثی باغیوں کا ردعمل

حوثیوں کی جانب سے ابتدائی ردعمل میں ایک رہنما نے واضح کیا کہ وہ پہلے امریکہ کی نیت اور حملے روکنے کے وعدے کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچا جائے گا۔

حوثی ترجمان محمد عبدالسلام نے باغیوں کے المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ اگر امریکی دشمن اپنے حملے دوبارہ شروع کرتا ہے تو ہم اپنے حملے دوبارہ شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی امریکی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا، "معاہدے کی اصل ضمانت وہ تلخ تجربہ ہے جو امریکہ کو یمن میں ہوا ہے۔"

ٹرمپ نے کیا کہا؟

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ٹامی بروس نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا، "حوثیوں نے واشنگٹن کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ جنگ روکنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے جہازوں پر حملے بند کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔ بروس کے مطابق حوثیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فضائی کارروائیاں روکنے کی منظوری دے دی ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ اوول آفس کی ملاقات میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ مزید لڑنا نہیں چاہتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "حوثیوں نے ہم سے کہا کہ ہم پر مزید بمباری نہ کریں، اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ بحر احمر میں جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے"۔

یہ جنگ بندی اس وقت عمل میں آئی جب امریکی فضائیہ نے 15 مارچ کے بعد سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے۔ صرف اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو پانچ مختلف یمنی صوبوں میں 29 فضائی حملے کیے گئے جن میں اس کے متعدد ارکان ہلاک ہوئے۔ ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے بھی صنعاء ایئرپورٹ سمیت متعدد مقامات پر حملے کیے۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ یہ کارروائی حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کے بن گوریون ہوائی اڈے پر حملے کا جواب تھی۔

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حوثیوں کے نے کہا کہ انہوں نے پر حملے کیا کہ کے بعد

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد