بھارتی جارحیت کیخلاف پنجاب اسمبلی میں مذمت قرارداد جمع کروا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
قرارداد میں کہا گیا کہ دشمن کو ملک میں کسی در اندازی کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی، تاہم پاکستان ہمسایہ ممالک سے پُرامن تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے، بین الاقوامی فورمز پر بھارتی جارحیت، ہٹ دھرمی کیخلاف آواز اُٹھائی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ استحکام پاکستان پارٹی کے ایم پی اے محمد شعیب صدیقی نے بھارتی جارحیت کیخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی۔ قرارداد میں پاک فوج کی شجاعت کو سلام اور مکمل یکجہتی کا اظہار اور دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور بھاری نقصان پہنچانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاک فوج نے بھارت کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کرکے بھارتی فوجیوں کو مورچے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا، جبکہ رافیل سمیت جنگی طیاروں کو مار گرانا پاک فوج کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قرارداد میں چین اور امریکہ کی بھارت کی مذمت کے بیانات کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ بھارتی جنگی جنون کیخلاف بیانات پاکستان کی کامیاب سفارت کاری ہے، جبکہ پاکستان کی حفاظت ہمارا جذبہ ایمانی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جارحیت، دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ دشمن کو ملک میں کسی در اندازی کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی، تاہم پاکستان ہمسایہ ممالک سے پُرامن تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے، بین الاقوامی فورمز پر بھارتی جارحیت، ہٹ دھرمی کیخلاف آواز اُٹھائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی جارحیت کہا گیا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔