چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے بھارت کی پاکستان پر جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی طاقتوں کے واضح انتباہات کے باوجود بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سویلین آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، بھارت نے بلاوجہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں کو شہید اور زخمی کردیا ہے۔

بھارت نے پاکستان پر 5 جگہوں پر میزائل داغ دیے، پاکستان کی جوابی کارروائی جاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ بہاولپور، کوٹلی، مظفرآباد میں فضا سے میزائل داغے گئے ہیں، حملے میں اب تک ایک معصوم بچہ شہید جبکہ ایک عورت اور ایک مرد شدید زخمی ہیں۔

اس سے پہلے بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر گذشتہ ماہ سے ظلم و ستم میں اضافہ کردیا ہے اور اب بھارت پاکستان اور آزاد کشمیر پر بلاوجہ حملہ آور ہوا ہے۔

علی رضا سید نے کہا کہ گذشتہ دنوں سے مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے کئی بے گناہ لوگوں کو جبراً بے دخل کرکے آزاد کشمیر کی سرحد پر چھوڑ رہا ہے، جو ایک انتہائی مذموم اقدام ہے، ان افراد میں بعض ایسی عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں جو پچاس پچاس پہلے شادی کرکے مقبوضہ کشمیر گئی تھیں۔ 

عالمی برادری کو فوری طور پر بھارت کی پاکستان پر جارحیت اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم کو روکنا ہوگا، کیونکہ بھارت پر جنگی جنون سوار ہے، وہ خطے کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے کہا کہ ہم دنیا بھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت کی مذمت کریں اور اسے اس کی جارحانہ کارروائیوں سے باز رکھیں۔

علی رضا سید نے کہا کہ اصل مسئلہ خطہ کشمیر کا ہے جو ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اس قبضے کو مستقل کرنا چاہتا ہے۔

عالمی برادری کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: عالمی برادری علی رضا سید بھارت نے کشمیر کے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا