پی ایس ایل 2025، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف بیٹنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ 2025 کے 26ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف بیٹنگ جاری ہے۔
راولپنڈی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 3 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 28 رنز بنالیے ہیں، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے فن ایلن 5 رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے۔
یاد رہے کہ کوئٹہ پی ایس ایل 2025 کے پوائنٹس ٹیبل پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 11 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پر ہے اور پلے آف مرحلے میں جگہ بنالی ہے، اسلام آباد یونائیٹڈ کی لگاتار 3 شکستوں کے بعد پوزیشن خطرے میں آگئی ہے۔
ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلوں میں دونوں ٹیموں نے دس ،دس میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام آباد یانئیٹڈ پی ایس ایل کرکٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد یانئیٹڈ پی ایس ایل کرکٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اسلام ا باد یونائیٹڈ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔