انصاراللہ یمن کے اعلی سطحی رہنما نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یمن پر جارحانہ اقدامات روک دیتا ہے تو ہم بھی اس کی جنگی کشتیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے لیکن جب تک غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے اس وقت تک اسرائیل پر حملے جاری رکھیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم انصاراللہ کے اعلی سطحی سیاسی رہنما ضیف اللہ الشامی نے کہا: "امریکہ نے تکبر اور غرور میں آ کر ہماری قوم کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا لیکن آخرکار اسے یمن کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بذات خود یمن میں خاص مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ ان حملوں کے بعد یمن میں انصاراللہ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور یمن کی فوجی طاقت بھی پوری طرح تباہ ہو جائے گی اور کوئی طاقت مقبوضہ فلسطین تک اسرائیلی کشتیاں پہنچنے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ یہ وہ مقاصد تھے جن کا اس نے اعلان کیا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کر پایا۔" انہوں نے یمن کے خلاف امریکہ کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "امریکہ کو بہت بڑی شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے ایم کیو 9 ڈرون طیارے جو امریکی صنعت کا شاہکار تصور کیے جاتے ہیں اور وہ جاسوسی کے علاوہ میزائل حملے اور قتل و غارت بھی انجام دیتے ہیں، یمن میں یکے بعد از دیگرے مار گرائے گئے۔ اس کے ایف 18 جنگی طیارے بھی گرائے گئے۔ امریکہ کی جنگی کشتیاں اور بحری بیڑے بھی یمن فوج کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے جس کے بعد ایک ایک کر کے اس کے جنگی بیڑے یہاں سے بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے۔"
 
انصاراللہ یمن کے رہنما ضیف اللہ الشامی نے یمن پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے بارے میں کہا: "امریکہ کو بڑی شکست ہو جانے کے بعد اسرائیلی دشمن نے محسوس کیا کہ امریکہ یمن سے متعلق ان کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکتا لہذا انہوں نے خود میدان میں کودنے کا فیصلہ کیا اور یمن پر فضائی جارحیت انجام دی۔ یہ حملہ یمن کے خلاف امریکی جارحیت کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لہذا امریکہ کی شکست کے بعد اسرائیل خود حملہ کرنے پر مجبور ہوا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "ہمارے میزائل بن گورین ایئرپورٹ تک جا پہنچے ہیں اور یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ کے فضائی دفاعی نظام کے علاوہ چند عرب ممالک بھی اسرائیل کو یمن کے میزائل حملوں سے بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ آخر میں امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر یمن کی دلدل سے باہر نکلنے کے لیے عمان مذاکرات کا سہارا لیا اور جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کیا۔" ضیف اللہ الشامی نے ٹرمپ کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت روک دینے کے اعلان کے بارے میں کہا: "ہمیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کیونکہ امریکہ نے خود ہی ہم پر جارحیت شروع کی تھی جبکہ ہم اسرائیل کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ہم غزہ کی حمایت جاری رکھیں گے اور غاصب صیہونی رژیم کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ امریکی ہم پر حملے کے لیے آئے تھے اور اب جب وہ جا چکے ہیں تو جس طرح قائد انصاراللہ نے کہا ہے میں بھی یہی کہوں گا کہ جاو جہنم میں۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے خلاف کے بعد یمن کے

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار