امریکہ سے جنگ بندی کے باوجود اسرائیل پر حملے جاری رکھیں گے، انصاراللہ یمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
انصاراللہ یمن کے اعلی سطحی رہنما نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یمن پر جارحانہ اقدامات روک دیتا ہے تو ہم بھی اس کی جنگی کشتیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے لیکن جب تک غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے اس وقت تک اسرائیل پر حملے جاری رکھیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم انصاراللہ کے اعلی سطحی سیاسی رہنما ضیف اللہ الشامی نے کہا: "امریکہ نے تکبر اور غرور میں آ کر ہماری قوم کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا لیکن آخرکار اسے یمن کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بذات خود یمن میں خاص مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ ان حملوں کے بعد یمن میں انصاراللہ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور یمن کی فوجی طاقت بھی پوری طرح تباہ ہو جائے گی اور کوئی طاقت مقبوضہ فلسطین تک اسرائیلی کشتیاں پہنچنے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ یہ وہ مقاصد تھے جن کا اس نے اعلان کیا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کر پایا۔" انہوں نے یمن کے خلاف امریکہ کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "امریکہ کو بہت بڑی شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے ایم کیو 9 ڈرون طیارے جو امریکی صنعت کا شاہکار تصور کیے جاتے ہیں اور وہ جاسوسی کے علاوہ میزائل حملے اور قتل و غارت بھی انجام دیتے ہیں، یمن میں یکے بعد از دیگرے مار گرائے گئے۔ اس کے ایف 18 جنگی طیارے بھی گرائے گئے۔ امریکہ کی جنگی کشتیاں اور بحری بیڑے بھی یمن فوج کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے جس کے بعد ایک ایک کر کے اس کے جنگی بیڑے یہاں سے بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے۔"
انصاراللہ یمن کے رہنما ضیف اللہ الشامی نے یمن پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے بارے میں کہا: "امریکہ کو بڑی شکست ہو جانے کے بعد اسرائیلی دشمن نے محسوس کیا کہ امریکہ یمن سے متعلق ان کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکتا لہذا انہوں نے خود میدان میں کودنے کا فیصلہ کیا اور یمن پر فضائی جارحیت انجام دی۔ یہ حملہ یمن کے خلاف امریکی جارحیت کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لہذا امریکہ کی شکست کے بعد اسرائیل خود حملہ کرنے پر مجبور ہوا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "ہمارے میزائل بن گورین ایئرپورٹ تک جا پہنچے ہیں اور یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ کے فضائی دفاعی نظام کے علاوہ چند عرب ممالک بھی اسرائیل کو یمن کے میزائل حملوں سے بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ آخر میں امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر یمن کی دلدل سے باہر نکلنے کے لیے عمان مذاکرات کا سہارا لیا اور جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کیا۔" ضیف اللہ الشامی نے ٹرمپ کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت روک دینے کے اعلان کے بارے میں کہا: "ہمیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کیونکہ امریکہ نے خود ہی ہم پر جارحیت شروع کی تھی جبکہ ہم اسرائیل کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ہم غزہ کی حمایت جاری رکھیں گے اور غاصب صیہونی رژیم کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ امریکی ہم پر حملے کے لیے آئے تھے اور اب جب وہ جا چکے ہیں تو جس طرح قائد انصاراللہ نے کہا ہے میں بھی یہی کہوں گا کہ جاو جہنم میں۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خلاف کے بعد یمن کے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔