شفاعت علی نے مودی کی آواز میں آپریشن ’سندور‘ کا پوسٹ مارٹم کردیا؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
مزاحیہ اداکار اور مشہور شخصیات کی آواز کی ہوبہو نقل کے لیے شہرت رکھنے والے شفاعت علی کی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا۔
شفاعت علی نے انسٹاگرام پر جاری کی گئی ویڈیو میں مودی کی آواز میں آپریشن سندور کا پوسٹ مارٹم کردیا۔
اداکار شفاعت علی نے مودی کی آواز میں کہا کہ آپریشن سندور کے لیے گئے تھے۔ پاکستان نے اسے ولیمہ بنادیا۔
View this post on InstagramA post shared by Syed Shafaat Ali (@shafaatsyed)
شفاعت علی نے مودی کی آواز میں مزید کہا کہ ’سندور‘ ایک ایسا فیصلہ جو تاریخ بدلے گا اور بہار کے الیکشن جتوائے گا لیکن پاکستانی فورس نے ہمارا ولیمہ دیدیا۔
شفاعت کے اس نئے کنٹیننٹ میں رافیل اور مگ طیاروں کے بارے میں مودی متفکر نظر آئے اور پاک فوج کے سپہ سالار عاصم منیر کی تعریف بھی کی۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس پوسٹ پر لکھا کہ ہم پہلے ہی آپ کی اداکاری کے فن کے قدردان تھے۔ آپ نے اس ویڈیو میں مودی کے سچے جذبات کی عکاسی کی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے پہلگام حملے کی آڑ میں پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا ہے جس میں 31 افراد شہید اور 71 زخمی ہوگئے۔
جس کے جواب میں پاکستان کی بہادر شاہینوں نے بھارت کے 5 طیاروں کو مار گرایا جن میں حال ہی میں فرانس سے خریدے گئے 3 جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔