پاک فضائیہ نے ڈاگ فائٹ اور ایئر ڈیفنس سسٹم سے بھارت کے کتنے طیارے گرائے؟ حامد میرکا بڑا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں انکشاف کیاہے کہ 6 اور 7 مئی کی رات پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے دشمن کے 6 طیارے مار گرائے جن میں سے دو جنگی طیارے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم سے فائر کیئے گئے ایچ کیو نائن میزائلوں کا نشانہ بنے جبکہ 4 طیارے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ڈاگ فائٹ کے دوران مارے۔
حامد میر کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر نہیں بلکہ اپنے آپ پر حملہ کیا ہے۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ 2019ء میں بھی مودی کی حکومت نے بالا کوٹ کے ایک پہاڑی مقام پر حملہ کر کے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گردوں کے تربیتی مرکز کو تباہ کر دیا گیا۔
بابراعظم گیند لگنے سے انجرڈ ہو گئے
اس حملے کے چند گھنٹے کے بعد جب میں حملے کی جگہ پر پہنچا تو وہاں کوئی تربیتی مرکز نہیں تھا۔ جس طرح کا جھوٹ بھارت نے 2019ء میں بولا ویسا ہی جھوٹ 2025ء میں بولا گیا۔ اس مرتبہ بھی پاکستان اور آزاد کشمیر میں میزائل حملوں کے ذریعے آٹھ بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا گیا جن میں بچے بھی شامل تھے اور 35زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ بھارت نے 22اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی اور پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان میں معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کرکے اپنے خلاف بہت سے ثبوت چھوڑ دیئے ہیں۔ پاکستان نے اس حملے کا فوری طور پر جواب دیا اور بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے ۔بھارت کےچار جنگی طیارے پاکستان ایئر فورس کے شاہینوں نے ڈاگ فائیٹ میں مار گرائے جبکہ دو جنگی طیارے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم سے فائر کئے جانے والے ایچ کیو نائن میزائلوں کا نشانہ بنے۔ سات مئی کی صبح جب دن کی روشنی نمودار ہوئی تو بھارتی میڈیا نے اپنی ایئر فورس کے نقصانات دکھانے شروع کر دیئے۔ اب نریندر مودی کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ پاکستان نے ناصرف بھارت کے جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا بلکہ لائن آف کنٹرول کے آس پاس کئی بھارتی چیک پوسٹوں اور مورچوں کو بھی تباہ کر دیا۔
پاکستان کے تین بڑے ایئر پورٹس بند کر دیئے گئے
پاکستان کا جواب نریندر مودی کیلئےغیر متوقع تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ سویلین علاقوں پر میزائل گرا کر اپنی فتح کا جشن منا لے گا لیکن سات مئی کے دن بھارتی میڈیا پر یہ بحث ہو رہی تھی کہ ایک ہی رات میں انکی ایئر فورس کا اتنا نقصان کیسے ہو گیا؟ پاکستان ایئر فورس نے 2019ء میں بھی بھارتی ایئر فورس پر اپنی برتری ثابت کی تھی اور اب 2025ء میں بھی بھارتی ایئر فورس پر اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی ایئر فورس کا وقار ایک دفعہ پھر مٹی میں مل گیا ہے اور یہ صرف بھارتی ایئر فورس کا نہیں بلکہ نریندر مودی کا سیاسی نقصان بھی ہے۔ اب وہ اس نقصان کا حساب برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان نے پہل نہیں کی پاکستان نے صرف جوابی کارروائی کی ہے اور اب بھارت نے دوبارہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو پہلے سے زیادہ سخت جواب ملے گا۔ کئی عالمی رہنما پاکستان اوربھارت کو باقاعدہ جنگ سے گریز کا مشورہ دے رہے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے کا انکشاف، کیا بات چیت ہوئی ؟ جانئے
جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے لیکن پاکستان نے جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ آبی جارحیت کا آغاز بھی بھارت نے کیا اور میزائل حملوں کے ذریعے سول آبادی کو نشانہ بنانے کا آغاز بھی بھارت نے کیا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ بھارت جب چاہے حملہ کرے اور جب چاہے سیز فائر کرے۔ پاکستان کو چاہئے کہ سیز فائر کو سندھ طاس معاہدے کی بحالی سے مشروط کرے۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان دراصل جنگ کا آغاز تھا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ بھی یہ پہلو نظراندازنہ کرے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بعد بھارت نے پاکستان کے دریائوں کا پانی بند کرنے کا اعلان کیا۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے لاہور میں 2 ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاعات
اگر بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کرتا تو پھر پاکستان شملہ معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کرے۔ شملہ معاہدے نے 1948ء کی سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کیا تھا۔عالمی قوانین کے مطابق جب دو ممالک ایک دو طرفہ معاہدے میں لائن آف کنٹرول پر اتفاق کر لیتے ہیں تو پھر اس کا دفاع دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے لیکن اگر یہ لائن آف کنٹرول ختم ہو جائے تو پھر کشمیریوں کو آرپار آنے جانے سے روکا نہیں جا سکتا۔ کشمیریوں نے اس لائن آف کنٹرول کو کبھی تسلیم نہیں کیا ماضی میں جے کے ایل ایف سمیت کئی تنظیمیں اس لائن آف کنٹرول کو توڑنے کا اعلان کر چکی ہیں اور پاکستان کو طاقت کے استعمال سے لائن آف کنٹرول کا دفاع کرنا پڑا۔
امرتسر میں 5 سے 6 دھماکوں کی آوازیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارتی ایئر فورس لائن ا ف کنٹرول پاکستان اور پاکستان کے جنگی طیارے نے پاکستان پاکستان نے بھی بھارت پاکستان ا کا اعلان بھارت نے بھارت کے کا ا غاز نہیں کی سات مئی مئی کی
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔