Daily Ausaf:
2026-07-24@07:13:07 GMT

جب بھی شیر آتا ہے سب کچھ کھا جاتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT

سید یوسف رضا گیلانی سرائیکی وسیب کے نفیس طبع سنجیدہ مزاج سیاستدان اور پڑھے لکھے ،ادیب اور ادب شناس انسان ہیں انہوں نے پروقار سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور عزیمت کے رستے کے مسافر رہے ہیں ،انہیں بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے، معاملات سنوارنے میں مہارت رکھتے ہیں جب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ہمسفر بنے ہیں اشفاق احمد مرحوم کے فلسفہ محبت کے قائل ہیں اسی لئے انہیں پی پی پی کا نا ٹھیک بھی ٹھیک لگتا ہے ۔
صلح جو آدمی ہونے کے باوجود اپنی پارٹی کے موقف کی حمایت سے پیچھے ہٹنے والے ہرگز نہیں ، بھلے وزیراعظم ہائوس کی بجائے جیل کی کال کوٹھڑی میں کیوں نہ رہنا پڑے۔مسلم لیگ ن کے اتحادی ہونے کے ناطے اس کی کلی حمایت سے سینٹ کے چیئرمین بنے مگر ایک جملہ ببانگ دہل کہہ کر اپنی ہی پارٹی اور اس کے چیئرمین کے موقف پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ ’’شیر جب بھی آتا ہے سب کچھ کھاجاتا ہے‘‘۔
اب اگر غالب جیسے ارفع شاعر کی طرف سے مومن کے ایک شعر(تم مرے پاس ہوتے ہو،جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا) کے بدلے اپنی ساری شاعری اسے ودیعت کرنے کی پیشکش کی طرح کوئی اعلیٰ ظرف و کشادہ دل سینئر سیاستدان یہ پکار اٹھے کہ’’میں اپنی ساری سیاست کاری سید گیلانی کے ایک ہی جملے پر وارنے کو تیار ہوں ‘‘ تو پھر بھی اس فقرے کی معنویت کی خلعت نہیں پہنا سکے گا ۔یہ مسلم لیگ ن کی بے رحم سیاست کی تاریخ کے بھدے شکم کو کند خنجر کی انی سے چاک کرکے رکھ دینے کے مترادف ہے ۔
1986 ء سے اس دور بے اماں کی پوری داستان اس ایک جملے میں بیان کردی گئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پی پی پی نے بھی اپنے اقتدار کے سب زمانوں میں آمریت کے لگائے زخموں کی قیمت عام آدمی سے وصول کی،مگر اس نے حساب چکانے میں وہ ات نہیں اٹھائی جو آج کل پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مچائی جارہی ہے ۔ پنجاب کی رانی ایک ہی راگ الاپ رہی ہے کہ انہوں نے مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کردیا ہے ،آٹا سستا،چینی اور چاول سستے اور ارزاں مگر کسان کی بجلی مہنگی، کھاد مہنگی اور نہری پانی تک گراں ،کیا ڈالا ہے اس دہقان کے کشکول میں یہ کہ وہ اپنی فصل سڑک کنارے رکھ کر سستے داموں بیچے گا! اس کا نام ہے کسان کی خوشحالی؟
کسان رو رہا اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں ،یہ ملک اس لئے بنایا گیا تھا کہ زرداروں اور صنعت کاروں کی چراہ گاہ رہے ،اس میں اہل ہوس شاد آباد رہیں اور وہ جو رات دن اس کی مٹی کو اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں وہ نالہ سرا رہیں ۔صحافت کے بے تاج بادشاہ شورش کاشمیری نے فرمایا تھا ’’ہمیں سورج کی نا قابل تسخیر کرنوں ،ہوائوں کی بے قید لہروں اور چاند کی خنک چاندنی سے بھی زیادہ اس بات کا یقین ہے کہ یہ دنیا صرف امیروں کی جولاں گاہ نہیں اس میں غریبوں کا بھی حصہ ہے‘‘۔
ایک صدی ہونے کو ہے اور یہ ایک خواب ہے جس کی راہ کے کانٹے نان جویں کو ترسنے والے چن رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیںریزہ ریزہ ہے بدن ،انگلیاں زخمی زخمی ہم بکھرتے تو کوئی شخص تو چنتا ہوتامگر پون صدی بیت گئی ابھی تک ’’احتساب کا ہاتھ انصاف کے گریبان تک نہیں پہنچا‘‘ شکستہ حالوں کا پرسان حال کوئی نہیں ۔ہم بھی کیا مجبور محض قوم ہیں کہ’’عقلوں کے طاعون اور طبیعتوں کے کوڑھ کو سینے سے لگائے جی رہے ہیں‘‘ کوئی ایسا نہیں جو طبل جنگ پر کاری ضرب لگائے اور سوئے ہوئے جاگ جائیں جنہیں اپنے حقوق کی خبر نہیں بس فرائض کی چکی پیستے پیستے عمریں بیت رہی ہیں۔متاع ایسی کوئی نہیں جو چھین نہ لی گئی ہو اور سزا ایسی کوئی نہیں جو ان کے نصیب کا حصہ نہ بنی ہو ۔
خانوادہ گیلانی کے تاجور نے ’’چاہ یوسف‘‘ سے صدائے حق تو بلند کی ہے مگر لوہا ڈھالنے والوں کی سماعتوں تک یہ صدا کیسے پہنچ سکتی ہے کہ وہ تو آگ اگلتی بھٹیوں کے دہانے کھڑے شہر کے مزدوروں سے ان کے تن کی قیمت حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ان میں سے شاید کوئی اس جملے کو تفن طبع کے لئے قا بل اعتنا سمجھ لے، مگر نہروں کا مسئلہ ہو یا سندھ کے دیگر مسائل، کیونکر درخور اعتنا گردانے جائیں گے کہ ن لیگ نے جتنے سیاسی اتحاد بنائے وہ سب کوئلوں کی دلالی کی مثل رہے ، انہیں کامیاب بنانے کا سہرا شریف خاندان نے کبھی اپنے سر نہیں باندھا دوسرے ہی اس سہرے کی لاج کے لئے قربانیاں دیتے رہے ہیں ،پھر ن لیگ اور پی پی پی کا اتحاد تو ویسے ہی غیر فطری اور غیر نظریاتی ہے ۔یہ مفادات کی کھلی سودے بازی ہے اور اس بازی میں پہلی بار پی پی پی شایدبازی لے جائے کہ یہ دونوں جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ کون کیسے جیتا ۔
بہرحال بات چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا کے بیان سے چلی تھی جنہیں خود یہ علم ہے کہ ان کے گھر کے سب افراد فارم 47کے مرہون منت ہیں جویہ بھی ہیں ،جو وہ بھی ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کوئی نہیں پی پی پی رہے ہیں ہیں جو

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام