امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر اور برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان بہر صورت بھارت کے حملے کا بھرپور جواب دے گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا، بھارتی جارحیت لاقانونیت پر مبنی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔

رضوان سعید نے امریکی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھرپور دفاعی کارروائی کی، پاک فوج قومی مفاد میں بھارت کو جواب ضرور دے گی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے پاکستان کی جانب سے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کے مطالبے کا خیر مقدم کیا تھا۔

بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھرپور دفاعی کارروائی کی، قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں یہ بات واضح ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اپنی مرضی اور اپنے وقت پر جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان امن پسند قوم ہے اور وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔

عالمی برادری کو جموں و کشمیر کے متنازع مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دنیا کی بڑی طاقت ہونے کے ناطے امریکا اور صدر ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں، پاکستان اور بھارت کی ایک ارب 60 کروڑ آبادی مسئلہ کشمیر سے متاثرہوتی ہے، لہٰذا اس مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے۔

برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کا دو ٹوک پیغام
برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان بھارت کےحملےکا جواب دے گا۔

برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور یہ اس کی اولین ترجیح بھی رہی ہے، پہلگام واقعےکی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے پاکستان تیار تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بھارت نے میزائل داغے، اب ان سے کیسے پہلگام واقعے پر تحقیقات کے لیے تعاون کریں؟ اس مسئلہ کا واحد حل مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہے۔

برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ بھارت نے سارک سمیت سندھ طاس معاہدے کو ختم کر دیا، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، پاکستان حملے کا بدلہ ضرور لے گا۔

واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب، اندھیرے میں پاکستان کے شہری علاقوں پر حملہ کرکے طبل جنگ بجادیا تھا۔

بھارتی حملے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے، جب کہ ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا تھا، بھارتی فوج نے ایل اوسی کے چورا کمپلیکس پر سفید جھنڈ الہرا کر شکست تسلیم کرلی تھی۔

اس کے علاوہ قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو جوابی کارروائی کے لیے اجازت اور مکمل اختیارات دے دیے ہیں، پاکستان نے بھارت کے حملے کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کہ پاکستان نے کہا کہ بھارت کے حملے کا

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے