بلوچستان بھر میں یکجہتی ریلیاں؛ پاک افواج کی حمایت اور بھارتی جارحیت کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
سٹی 42 : کوئٹہ شہر، سریاب روڈ کوئٹہ، چمن اور جعفرآباد میں پاکستان کی مسلح افواج کی غیر متزلزل حمایت اور بھارتی جارحیت کی شدید مذمت میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔
ان ریلیوں میں بلوچستان کے مختلف طبقات کی پرجوش شرکت دیکھی گئی، جن میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے سرکردہ اراکین، معزز قبائلی عمائدین، بااثر سیاسی رہنما، اور صوبائی اسمبلی کے اراکین شامل ہیں۔
ان ریلیوں میں قومی فخر اور یکجہتی کے احساس سے سرشار ہو کر، شرکاء نے ملک کے محافظوں کے لیے اپنی واضح حمایت کا اظہار کیا اور پاکستان کی خودمختاری کے خلاف جارحیت سمجھے جانے والے کسی بھی اقدام کی بھرپور مذمت کی۔ کوئٹہ شہر میں ایک اہم اجتماع نے مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قومی پرچم اور بینرز اٹھائے ہوئے اہم شریانوں سے مارچ کیا۔
پنجاب بھر کے سکولوں میں تعطیلات کا اعلان
اسی طرح کے مناظر سراب روڈ کوئٹہ، ضلع چمن اور ضلع جعفرآباد میں دیکھنے کو ملے جہاں پر جوش خطابت نے عوام کے اپنی فوج کے ساتھ اتحاد اور قومی مفادات کے تحفظ کے اجتماعی عزم کو اجاگر کیا۔
ریلیوں سے خطاب کرنے والے قائدین نے بیرونی چیلنجز کے پیش نظر قومی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے قوم کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے میں افواج پاکستان کی قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کو سراہا۔
علی امین گنڈا پور کا اڈیالہ جیل کی جانب پیدل مارچ، پولیس سے تلخ کلامی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :