فنکاروں کا پاک افواج سے اظہار یکجہتی، بھارت کو موثر جواب پرخراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) فنکاروں، اداکاروں نے پاک افواج سے اظہار یکجہتی کرتے بھارت کو مؤثر جواب دینے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اداکار بلال عباس خان نے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے ذلت آمیز اقدامات کو بزدلانہ قرار دیا۔ ماورا حسین نے پاکستان پر بھارت کے حالیہ بزدلانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے معصوم جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔ فرحان سعید نے پاکستان کی آزادی اور بھارت سے علیحدگی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے قائداعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اداکارہ عروہ حسین نے پاکستان کے خلاف بھارتی سازش کے لئے آواز بلند کرتے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے اور کشیدگی بڑھانے پر بھارت پر شدید تنقید کی۔ اداکارہ نے کہا کہ یہ جنگ نہیں ہے بلکہ ایک پڑوسی کی انا کا برتاؤ ہے۔ منیب بٹ نے بھارت کی جانب سے حملے کے بعد ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پڑوسی ملک کے اس بزدلانہ حملے کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اداکارہ ہانیہ عامر نے پاکستان پر بھارتی حملے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور بھارت کی اس کارروائی کو شرمناک اور ان کی بزدلی قرار دیا۔ اداکار اسامہ خان نے پاکستان بھارت کے حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کشیدگی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ اداکار فواد خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر سٹوری کے ذریعے بھارتی حملے کو شرمناک قرار دیا۔ اداکارہ ماہرہ خان نے مصنفہ فاطمہ بھٹو کی ٹوئٹ کو اپنے انسٹاگرام سٹوری پر شیئر کرتے ہوئے حملے کو بزدلانہ قرار دیا اور دعا کی کہ یااللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائیں۔ ریما نے کہا پاکستان امن پسند ملک ہے اور اپنے دشمن کو منہ توڑ جواب دینا جانتا ہے۔ پاک فوج ایمان سے سرشار سیسہ پلائی دیوار کی مانند عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اعجاز اسلم نے کہا جنگ جذبے سے لڑی جاتی ہے جو بھارتی فوج کے پاس نہیں ہے۔ اداکار نے کہا کہ ابھی نندن کے واقعے کے بعد بھارتی فوج کا پول کھل گیا تھا۔ ہمیں اپنی افواج اور جوانوں پر فخر ہے۔ احسن خان نے بھارتی جارحیت کیخلاف ردعمل دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کی جانب سے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کو شرمناک قرار دیدیا۔ اداکار احسن خان نے ایک اہم ویڈیو بیان میں بھارتی جنگی رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے۔ تاہم موجودہ بھارتی رویہ اس جذبے کے منافی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے پاکستان کرتے ہوئے کا اظہار قرار دیا نے کہا
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔