پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ  بھارتی حملے میں 31 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بھارت کے بزدلانہ حملے میں معصوم بچے شہید ہوئے، جنہوں نے اپنی زندگی کی بہاریں دیکھنی تھیں، جن کو بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب کو نشانہ بنایا، ہم بھارت ہی سے اس بزدلانہ اقدام کی توقع کرسکتے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہم سب پہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کس طرح بھارت پراکسی کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کررہا ہے، اس کے شواہد دنیا کے سامنے ہیں، جب پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ تیز کی تو بھارت خود اپنی فوج کے ساتھ دہشتگردی پر اترآیا، بھارت نے پاکستان کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا یہ دہشتگردی نہیں تو اور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی میں بھارتی فوج نے کل کس طرح پاکستان میں مختلف مقامات پر مساجد کو نشانہ بنایا، مساجد میں قرآن پاک شہید کیے گئے۔ سوال یہ ہے کون سا مذہب اور کون سی انسانیت ہے جو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ کسی اور کی عبادت گاہوں اور مقدس کتابوں کو شہید کریں اور اس کی بے حرمتی کریں۔‘

’6 اور 7 مئی کے حملے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا دشمن اتنا کمزور اور خوفزدہ ہے کہ وہ بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں شہریوں اور آبادی کے مراکز کو نشانہ بناتا ہے، بجائے اس کے کہ اس کے سامنے برابر کی فوج سے لڑیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی حملے کے جواب میں بھارت کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا نہ کہ عام شہریوں کو اور معصوم لوگوں کو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کو نشانہ بنایا نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی