فائل فوٹو۔

ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی صورت حال، پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اور 6 مئی کی شب ہونے والے دہشت گرد حملے سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ترک صدارتی ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز کے مطابق صدر اردوان نے حملے میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کے لیے دلی تعزیت اور مغفرت کی دعا کی، جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

صدر اردوان نے اس موقع پر پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا اور باور کرایا کہ ترکیہ ہر سطح پر پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیے بھارت جارح اور پاکستان متاثرہ ملک، ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری بھارتی حملوں میں 31 معصوم شہری شہید، 57 زخمی ہوئے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر بھارت نے گزشتہ رات جارحیت کرکے فاش غلطی کی، اسے خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف آرمی چیف کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات اور ایئر فورس کو خراج تحسین

انہوں نے جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے کی غیر جانبدار، شفاف اور قابل اعتماد بین الاقوامی تحقیقات کی تجویز کو نہایت موزوں اور ضروری قرار دیا۔

صدر ایردوان نے اس امر پر زور دیا کہ کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کےلیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے اور فریقین کے مابین کشیدگی کم کرنے کےلیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطے آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ خطے میں امن قائم رکھا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت