تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے پرامن رہیں اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کریں، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز

بیجنگ :روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی دعوت پر چینی صدر شی جن پھنگ روس کے سرکاری دورے اور عظیم محب وطن جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے ۔جمعرات کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ میں فاشزم کے خلاف فتح کی یاد مناتے ہوئے، چینی صدر کے اس دورے کا اہم مقصد پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دینا ہے: 80 سال قبل، چین، سوویت یونین اور دنیا کی دیگر انصاف پسند قوتوں نے مل کر مغرور فاشسٹ طاقتوں کے سروں کو کچلا تھا۔ آج 80 سال بعد، خود پسندی، بالادستی اور دھونس کے رویے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں، اور انسانیت ایک بار پھر اتحاد یا تقسیم، مکالمہ یا تصادم، باہمی فائدہ یا زیروسم گیم کے سنگم پر کھڑی ہے۔

چین دنیا کی انصاف پسند قوتوں کے ساتھ مل کر اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کے مفادات کا تحفظ کرے گا، تاریخ کی یادداشت کے محافظ، ترقی اور خوشحالی کے ہمراہ اور بین الاقوامی انصاف کے دفاع کے طور پر مضبوطی سے کھڑا ہوگا، تاکہ انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک روشن امکانات کو یقینی بنایا جا سکے۔ 80 سال قبل فاشزم کا زوال وحشت اور بربریت پر تہذیب اور انصاف کی فتح تھا۔ اس فتح نے عالمی سیاسی نقشے کو نئی شکل دی، اقوام متحدہ کے نظام کو جنم دیا اور جنگ کے بعد 70 سال سے زائد عرصے تک نسبتاً پرامن بین الاقوامی نظام کی بنیاد رکھی۔ یہ یاد صرف ماضی کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی ہے۔ فاشزم مخالف جنگ نے ہمیں نہ صرف فتح کی یاد دلائی ہے بلکہ ایک روحانی ورثہ بھی چھوڑ ا ہے جو وقت اور مکان کی حدود سے ماورا ہے،یعنی بین الاقوامی تعاون، انصاف کا دفاع، اور تہذیبوں کے تنوع کا احترام ۔ آج کے اس پرآشوب دور میں یہ اقدار اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ آج کی دنیا موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی جیسےچیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور کوئی بھی ملک تن تنہا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ 1945 میں دنیا نے مل کر فاشزم کو شکست دی تھی، آج بھی انسانیت کو اسی اتحاد اور تعاون کی روح کو زندہ رکھتے ہوئے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ تاہم، تشویش کی بات یہ ہے کہ تاریخی یادوں کے دھندلانے اور مسخ ہونے سے امن کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں:

جاپان کے بعض سیاست دان بار بار یاسوکونی شرائین کی زیارت کرتے ہیں جس میں دوسری جنگ عظیم کے جنگی مجرموں کے تختے محفوظ ہیں، کچھ انتہائی دائیں بازو کی قوتیں فاشسٹ تاریخ کو خوبصورت بنا کر پیش کر رہی ہیں، اور کچھ ممالک جنگ کے بعد کے عالمی نظام اور بین الاقوامی اخلاقی اصولوں کی حدود کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یکطرفہ اقدامات اور دھونس کا رویہ اقوام متحدہ پر مبنی کثیرالجہتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔یہ سب تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ روس-یوکرین جنگ اور فلسطین-اسرائیل تنازعہ نے دنیا کو ایک بار پھر خبردار کر دیا ہے کہ امن تاریخ کا لازمی تحفہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی قیمتی وراثت ہے جسے ہر نسل کو محنت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے فاشزم کے خلاف جدوجہد کی روح کو ادارہ جاتی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں عالمی انتظامی نظام کو بہتر بنانے، اقوام متحدہ کی نمائندگی کو بہتر بنانے، عالمی تجارتی ادارے کے اختیارات کو مضبوط کرنے اور زیادہ منصفانہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے۔

چین کی “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے رابطوں کو بہتر بنانے کی ایک عملی کوشش ہے، جو “ترقی امن کی بنیاد ہے” کے تاریخی سبق کا عکاس ہے۔ ڈیجیٹل دور میں، ہمیں مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا جیسے نئے شعبوں میں عالمی قوانین بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی بالادستی نئے ظلم کا ذریعہ نہ بن سکے۔ تاریخ کے نئے سنگم پر کھڑے ہو کر، انسانیت کو ایک نئی “روشن خیالی” کی ضرورت ہے جو کہ 18ویں صدی کی مغربی مرکز عقل پر مبنی تحریک نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کے مکالمے پر مبنی ایک عالمی بیداری ہے۔ چینی روایات میں “دنیا کا ایک ہونا” کا تصور، افریقی فلسفہ اوبانٹو Ubuntu کا “میں ہوں کیونکہ ہم ہیں” کا نظریہ، اور اسلامی تہذیب کا ” پیغامِ انسانیت ” ایک دوسرے سے پیوست اور ہم آہنگ ہیں ، یہ سب فاشزم کے خلاف جدوجہد کی انصاف اور مساوات کی اقدار کے عین مطابق ہیں۔ تہذیبوں کے درمیان یہ روحانی ہم آہنگی انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ فاشزم کے خلاف فتح کی یاد منانے کا حقیقی مقصد رسمی سوگ منانے کے بجائے تاریخ سے سبق لے کر مستقبل کے راستے کو روشن کرنا ہے۔

اگر آپ عظیم سچائی جاننا چاہتے ہیں، تو پہلے تاریخ میں جانا ہوگا ۔ ماضی کو نہ بھولنا مستقبل کے لیے سبق آموز ہے۔ تاریخ کی تیز رفتار تبدیلیوں کے اس دور میں، صرف امن، ترقی، انصاف اور مساوات کی عالمی اقدار پر قائم رہ کر ہی ہم تاریخی سانحوں کو دہرانے سے روک سکتے ہیں اور ایک پائیدار امن، عالمی سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کا مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف فاشزم کے خلاف جنگ میں دو کروڑ سے زائد شہیدوں کے لیے بہترین خراج تحسین ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہماری ذمہ داری بھی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی صدر کے پسندیدہ  حوالہ جات ” ( انٹرنیشنل  ورژن)  روس کے مین اسٹیم میڈیا پر نشر کیا گیا چینی صدر کے پسندیدہ  حوالہ جات ” ( انٹرنیشنل  ورژن)  روس کے مین اسٹیم میڈیا پر نشر کیا گیا چین اور روس کے تعلقات مسلسل نئی قوت حاصل کر رہے ہیں، چینی صدر نجی معیشت کے فروغ سے متعلق قانون بڑی آئینی اہمیت کا حامل ہے،چینی عہدیدار کراچی، لاہور، اسلام آباد اور سیالکوٹ کی فضائی حدود عارضی طور پر بند، نوٹم جاری چین کی خوبصورتی کو ایک ساتھ دریافت کریں چین-روس مشترکہ پروڈکشن فلم ’ریڈ سلک ‘چین میں ریلیز کی جائے گی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر

پڑھیں:

چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟

چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔

چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔

اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔

چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔

چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل