انتظار کی گھڑیاں ختم، سسٹین چیپل کی چمنی سفید دھواں اگلنے لگی، پوپ منتخب ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
سسٹین چیپل کی چمنی سے اٹھنے والا سفید دھواں نئے پوپ کے انتخاب کا اشارہ دے رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ویٹیکن میں جمع ہونے والے 133 کارڈینلز نے ووٹنگ کے دوسرے دن پوپ فرانسس کے جانشین کا انتخاب کیا۔
جمعرات کو سسٹین چیپل کی چمنی سے سفید دھواں نکلنے لگا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اندر بند کارڈینلز نے دنیا کے 1.
جیسے ہی دھواں نمودار ہوا اور گھنٹیاں بجنے لگیں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں زائرین اور متجسس تماشائیوں نے خوشی اور تالیاں بجائیں جس سے ظاہر ہوگیا کہ 2 ہزار سال پرانے ادارے کے 267 ویں پوپ منتخب ہوگئے۔
اب سب کی نظریں سینٹ پیٹرز باسیلیکا کی بالکونی کی طرف لگی ہوئی ہیں کیوں کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ارجنٹائن کے ایک مصلح پوپ فرانسس کی جانشینی کے لیے اب کن کو منتخب کیا گیا ہے۔
پوپ فرانسس گزشتہ ماہ انتقال کر گئے تھے۔ نئے پوپ کو لاطینی زبان میں ان کے منتخب کردہ نام کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا اور پھر دنیا سے خطاب کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
267 ویں پوپ منتخب پوپ فرانسس کے جانشین منتخب سفید دھواں نئے پوپ منتخب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 267 ویں پوپ منتخب پوپ فرانسس کے جانشین منتخب سفید دھواں نئے پوپ منتخب پوپ فرانسس پوپ منتخب
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔