ہمارے سسٹمز بہت اچھے، ڈورنز ڈیٹیکٹ کر کے ہی گرائے گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کا کہنا ہے کہ میں اس سوال کو رد کرتا ہوں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جس کسی نے پچھلے چند دنوں سے قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھی ہے یا جب سے ہندوستان نے حملے کی خبر گرم کی ہے اور اس کے بعد تحریک انصاف کا رسپانس آیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے کنٹرول روم میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یوم تاسیس پر ہم نے قرارداد پاس کی میرے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی اور میری خود پیش کی گئی، اس کو تمام لیڈرشپ اور کارکنوں نے متفقہ طور پر پاس کیا، جس میں پاکستان کے دفاع کے لیے خون کے آخری قطرے تک لڑنے کی بات اورسب نے یکجا اپنا کردار ادا کرنے کی بات، پاکستان کے دفاع کے لیے پاک فوج کی سپورٹ کی بات ہے۔
دفاعی تجزیہ کار (ر) ایئرمارشل سعید محمد خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے دے دیا ہے کہ ایسی کوئی انکرشن ہمارے ملک میں نہیں ہوئی جو ہمیں نہیں پتہ تھی، رات سے جب سے یہ انکرشنز ہو رہی تھیں، ہم نے اپنی اسٹریٹیجی کو چینج کیا اور ہم نے اپنے مقاصد کو حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ جو زیادہ تراسرائیلی ڈرون تھے ان کو ایل ایم لوئٹرنگ میونیشن جو کہ میزائل اور یو اے وی کی ایک کمیبنیشن ہوتا ہے یہ دس فٹ کا ہے، یہ فائبر کا بنا ہوتا ہے تو اس کی ڈیٹیکشن راڈر پر کم ہوتی ہے لیکن ماشا اللہ ہمارے سسٹمز بہت اچھے ہیں،سوشل میڈیا کے اوپر یہ جو بحث چل رہی ہے کہ ہم نے ان کو ڈیٹیکٹ کیوں نہیں کیا یہ ڈیٹیکشن آل ریڈی ہو گئی تھی، ہم نے ہر ایک کو آتے ہوئے دیکھا ہے جتنوں کو ہم نے ہارڈ کل کیا ہے ان کو ہم نے ڈیٹیکٹ کر کے ہی کیا ہے۔
(ر)میجر جنرل زاہد محمود نے کہا کہ انڈیا کے دو تین مقاصد ہیں ایک تو یہ ہے کہ وہ جسٹیفائی کرنا چاہتا ہے اپنے ان جسٹیفائڈ ایکٹ کیا ہے پاکستان میں سویلین ٹارگٹز کو نشانہ بنایا ہے اور سویلینز کو شہید کیا ہے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انھوں نے ہمارے چار چار سال کے بچوں کو دہشت گرد قراردیا، ایک تو دنیا نے اس کو قبول نہیں کیا، دنیا نے ان کو کہا ہے، کچھ نے اس پر کھل کر تنقید کی ہے، کچھ نے ڈپلومیٹکلی کی ہے اور کچھ نے اپنے مفاد کی وجہ سے سافٹ تنقید کی ہے، یہ 21ویں صدی ہے سب کو پتہ ہے کہ حملہ کہاں پر ہوئے ہیں اور کیسے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.