بھارت نے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت اختیار کی، جوابی کارروائی ہمارا حق ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت کا راستہ اختیار کیا، جس پر جوابی کارروائی کرنا پاکستان کا حق ہے۔
ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا مظاہرہ کیا اور بھارت نے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا، بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا ہے اور جواب میں پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی جنگی جنون خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، پاکستان ہرممکن صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے، پاکستان بھارت کی جارحیت کی مذمت کرتا ہے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کررہا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے متعدد شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے ۔کیا کوئی ملک کسی بھی ملک کو شوشل میڈیا بیانات کے اوپر کسی ملک پر حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟۔ ہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کو اس معاملے پر جواب دہ ٹھہرائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ ہم بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے بیانات کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھارتی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے ۔ وزیر اعظم نے مکمل انکوائری کا کہا لیکن بھارت نے جارحیت کا راستہ لیا ۔ ممبئی اور پٹھان کوٹ کی تحقیقات بھارت کی وجہ سے نہیں کی جا سکیں۔ کلبھوشن یادیو بھارت کی انتہا پسندی کی مثال ہے ۔ ہندو انتہا پسندی میں 40 پاکستانی شہید ہوئے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیلم جہلم ہائڈرو پاور پراجیکٹ کے کچھ حصے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہوئے ۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ بھارتی فیصلے کے اثرات کل کروڑوں لوگوں پر ہوں گے۔ یہ بھارت ہی تھا جو جموں و کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ لے کر گیا ۔ بھارت مسلسل چھوٹے ہمسایہ ممالک کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت نے پاکستان کہ بھارت بھارت کی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔