پاکستان حملہ کرے گا تو پوری دنیا میں اس کی گونج ہو گی، ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارت کا فوجی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ سفید جھوٹ ہے ،پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے 5طیارے گرائے ہیں ، بھارت اپنی خفت مٹانے کیلئے ایسی حرکتیں کر رہا ہے ،نائب وزیراعظم اسحق ڈار
کوئی بھی میزائل جب چلایا جاتا ہے تو اپنے ڈیجیٹل نشانات چھوڑتا ہے ، اگر 15مقامات پر حملہ کیا جاتا تو اس کے شواہد ضرور ہوتے ،بھارتی حکومت کو فلمی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آنا ہو، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں 15 مقامات پر حملے کی خبر جھوٹ ہے ، مودی سرکار اپنے فائدے کیلئے ڈراما کر رہی ہے تاہم جب پاکستان حملہ کرے گا تو وہ نظر بھی آئے گا اور گونج بھی سنائے دے گی، بھارتی میڈیا نہیں بتائے گا لیکن پوری دنیا جان جائے گی،مشرقی سرحد پر ہماری گہری نظر ہے اور ہر متحرک شے کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور اسے گرایا جارہا ہے ، بھارت کا یہ دعویٰ سفید جھوٹ ہے کہ پاکستان نے 15 مقامات پر حملہ کیا ہے ، کوئی بھی میزائل جب چلایا جاتا ہے تو اپنے ڈیجیٹل نشانات چھوڑتا ہے ، اگر 15 مقامات پر حملہ کیا جاتا تو اس کے شواہد ضرور ہوتے ،بھارتی حکومت کو فلمی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آنا ہوگا، کیا بھارتی حکومت واقعی 21ویں صدی میں جی رہی ہے یا نہیں،2019 میں بھارت نے پاکستان میں چائے پی تھی مگر اس بار ہم نے وہی چائے بھجوادی۔ جمعرات کو وزیر خارجہ اسحق ڈار اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر میڈیا کو بریفنگ دی۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آدم پور سے 4 میزائل فائر ہوئے ، ان میں سے ایک پروجیکٹائل (میزائل) انہوں نے خود امرتسر میں گرایا، باقی 2 بین الاقوامی سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوئے ، ان میں سے ایک کو ڈنگہ پر مار گرایا گیاجس کا فورنزک کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہماری گہری نظر ہے اور ہر متحرک شے کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور اسے گرایا جارہا ہے جبکہ گزشتہ شب اس طرح کے 3 میزائل بھارت نے خود اپنی حدود میں امرتسر میں گرائے ۔انہوںنے کہاکہ بھارتی حکومت کو فلمی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آنا ہوگا، کیا بھارتی حکومت واقعی 21ویں صدی میں جی رہی ہے یا نہیں، بھارت کا یہ دعویٰ سفید جھوٹ ہے کہ پاکستان نے 15 مقامات پر حملہ کیا ہے ، کوئی بھی میزائل جب چلایا جاتا ہے تو وہ اپنے ڈیجیٹل نشانات چھوڑتا ہے ، اگر 15 مقامات پر حملہ کیا جاتا تو اس کے شواہد ضرور ہوتے ۔انہوںنے کہاکہ اگر بھارت نے 15 جگہوں پر میزائل مار گرائے تو پھر وہ اپنے 5 طیاروں کو کیسے نہ بچاسکا؟ بھارتی حکومت ملکی سطح پر اپنے فائدے کے لیے ڈراما کر رہی ہے جس سے اسے گریز کرنا چاہیے ۔ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ بھارت جانتا ہے کہ جب پاکستان حملہ کرے گا تو پھر بھارتی میڈیا کو اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ دنیا خود ہی جان جائے گی، پاکستان جب حملہ کرے گا تو وہ نظر بھی آئے گا اور اس کی گونج بھی سنائے دے گی۔انہوںنے کہاکہ آج پاکستان میں داخل ہونے والے تمام ڈرونز کو بھی دیکھ لیا گیا تھا اور پھر 29 ڈرونز کو مار گرایا، تاہم ایک ڈرون کے حملے میں ہمارے 4 جوان زخمی ہوئے ، ڈرون حملوں میں 3 شہریوں کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں اور 4 زخمی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رافیل طیاروں کا ملبہ بھارت نے خود اکٹھا کیا تھا مگر ڈرونز کا ملبہ ہم نے جمع کیا ہے ، یہ ایسے ہی ہے 2019 میں انہوں نے چائے یہاں آکر پی تھی، 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات کو چائے ہم نے خود وہاں بھجوائی ہے ۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے ننکانہ صاحب میں سکھوں کے مقدس مقام کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جو یکسر ناقابل قبول ہے ، ہم نے یہ ڈرون بھی مار گرایا، سوال یہ ہے کہ بھارت مذہبی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے ؟انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا میں انجینئرڈ جنگی جنون نظر آرہا ہے تاہم پاکستان میں لوگ اپنے نارمل انداز میں بیٹھے ہیں کیونکہ ہم جنگ کا تجربہ رکھنے والی قوم ہیں، 20 سال سے ہم فتنہ الخوارج جیسے دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ عوام کھڑے ہیں، کچھ بھی نہیں ہوگا، ہمیشہ حق کی فتح ہوئی ہے اور حق کی فتح ہوگی۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے کہا کہ بھارت کے کئی مسلح ڈرونز نے کئی مقامات پر پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، بھارتی ڈرونز نے لاہور میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا فوجی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ سفید جھوٹ ہے اور اس جھوٹ بولنے کی وجہ نظر آتی ہے ، آج جو پاکستان کے اندر اسلام آباد سے کراچی تک 2 درجن مقامات پر جو کام کیے ہیں وہ افسوسناک، شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے بھارت کے جنگی طیارے گرائے یہ شاید ان سے ہضم نہیں ہو رہا، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے 5 طیارے گرائے ، بھارت اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ حرکتیں کر رہا ہے ۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایک کہانی بنائی گئی کہ پاکستان نے گزشتہ رات پھر بھارت کے اندر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کیے جس کے نتیجے میں ہم (بھارت) نے کارروائی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی پنجاب کے کسی شہری علاقے میں کارروائی نہیں کی اور ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ہرممکن اسٹریٹیجک احتیاط کا مظاہرہ کیا۔اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے ، شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، پاک فوج دفاع کے لیے پرعزم ہے اور جس طرح پاک فضائیہ نے 75 سے 80 بھارتی طیاروں کا مقابلہ کیا، وہ واضح مثال ہے کہ ہم ان کو بھرپور جواب دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 36 گھنٹے پہلے بہت بڑا مقابلہ کیا اور پاکستان کو اللہ نے سرخرو کیا، بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ہماری مسلح افواج الرٹ ہے ۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پر حملہ کرکے پاکستانی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی جان خطرے میں
ڈالی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے پہلگام واقعے پر بھی کہا تھا کہ ثبوت لے آئیں اور شفاف، غیرجانبدار اور عالمی سطح کی تحقیقات کی جائیں، اگر بھارت کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت ہیں تو وہ دنیا کو دکھائے ، یہ سب من گھڑت کہانیاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔