پی ٹی آئی رہنما میاں عباد فاروق کوٹ کھپت جیل سے رہا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنما میاں عباد فاروق کوٹ کھپت جیل سے رہا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) تحریک انصاف کے رہنما میاں عباد فاروق کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔ انہیں 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے پر دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق میاں عباد فاروق کی رہائی عدالتی فیصلے اور قانونی کارروائی کے بعد عمل میں آئی۔ وہ کافی عرصے سے کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے اور 9 مئی کے واقعے میں ان پر جلاؤ گھیراؤ اور اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
رہائی کے موقع پر تحریک انصاف کے کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجود تھی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
سپریم کورٹ کا ٹرائل کورٹ کو 9 مئی ملزمان کے کیسز کا 4 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم
تحریک انصاف کی قیادت نے میاں عباد فاروق کی رہائی کو انصاف کی فتح قرار دیا ہے.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپانچ طیارے، 77ڈرونز گرا کر پاکستان کو روایتی جنگ میں بھارت پر برتری حاصل ہوچکی، عطاء تارڑ پانچ طیارے، 77ڈرونز گرا کر پاکستان کو روایتی جنگ میں بھارت پر برتری حاصل ہوچکی، عطاء تارڑ بھارت نے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت اختیار کی، جوابی کارروائی ہمارا حق ہے، پاکستان پاک فوج کی جوابی کارروائی، دشمن کے 77 ڈرونز زمین بوس سپریم کورٹ نے اسلم رئیسانی کے خلاف انتخابی عذرداری خارج کردی کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں، قوم مطمئن رہے، بھارت کو جواب دینے کیلئے 200 فیصد تیار ہیں، وزیر دفاع یہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے، ملکی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں: مولانافضل الرحمانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میاں عباد فاروق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔