قوم یقین رکھے بھارت کو منہ توڑ جواب ضرور دیا جائے گا،وزیراطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
قوم کی سیکیورٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے ،جواب کب آئیگا فیصلہ پاک فوج پر چھوڑدیا
حکومت کے ساتھ اپوزیشن کا بھی شکریہ،پوری قوم متحد ہے ،قومی اسمبلی میں پالیسی بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ قوم یقین رکھے بھارت کو منہ توڑ جواب ضرور دیا جائے گا، قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کی سیکیورٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے ،جواب آئے گا،بھرپور آئیگا،کب آئیگا فیصلہ پاک فوج پر چھوڑدیا۔قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ میں حکومت کے ساتھ اپوزیشن کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ پوری قوم متحد ہے ، کچھ حقائق ایوان
کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، رات کی تاریکی میں بزدل دشمن نے حملہ کیا، رافیل طیارے دنیا کی بہترین اور سپیریئر ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہی ناز تھا کہ ہمارے پاس یہ جدید ٹیکنالوجی ہے ، وہ اس ناز کے ساتھ پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے جس میں انہیں شرمندگی ہوئی ہے ، اسی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اب انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے ۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دشمن مکار، بزدل ہے مگر وہ ٹیکنالوجی لے کر ہمارے خلاف آتا ہے ،مگر جب اس نے میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو ہماری مسلح افواج نے بہترین جواب دیا، یہ صرف رافیل طیارے نہیں گرے بلکہ بھارت کا غرور گرا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شاہینوں کو اس ایوان سے سیلیوٹ پیش کرتے ہیں، 2019 کی طرح اب بھی فینٹاسٹک ٹی تیار تھی، دشمن بھاگ گیا تو پھر ہم نے انہیں یہ چائے ہوم ڈیلیوری کے ذریعے بھجوائی،اسی وجہ سے بھارت اب بیک فٹ پر گیا اور اب ڈرون بھیجنا شروع کردیے ہیں، وہ بزدل اور ڈرپوک ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز