پاکستان اور بھارت کو جنگ کی طرف کون دھکیل سکتا ہے؟ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان جوہری طاقتیں ہیں جبکہ غیر ریاستی عناصر دونوں کو جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
اسکائی نیوز پر یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور جاری پروپیگنڈا وار پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بحران کا کوئی مؤثر مینجمنٹ سسٹم موجود نہیں، ہم ایک خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بات چیت نہ ہونے سے معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید نے کہا کہ جو پلوامہ میں ہوا، اس کی مذمت کرتا ہوں، غیر ریاستی عناصر کا کوئی مذہب یا قوم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی ناقابل قبول ہے لہٰذا انٹیلیجنس ڈیٹا سامنے لایا جائے، بین الاقوامی قانون کسی بھی ملک اور خاندان کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید کا کہنا تھا کہ مسئلے کا واحد حل بات چیت ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ تنازعات مذاکرات کے بغیر حل نہیں ہوتے، پاکستان نے بارہا امن کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن بھارت کا مؤقف مسلسل خاموشی رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔