رواں ہفتے 9اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز )ملک میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں 0 اعشاریہ24فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم سالانہ بنیادوں پر حالیہ ہفتے بھی 0اعشاریہ80فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے قیمتوں کے حساس اشاریہ سے متعلق جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 8مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک میں روزمرہ استعمال کی 17اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 25کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے جبکہ 9اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔دوران ہفتہ ٹماٹر 8اعشاریہ81فیصد، لہسن 5اعشاریہ05فیصد، آلو 3اعشاریہ33فیصد، پیاز 2اعشاریہ08فیصد، ایل پی جی 1 اعشاریہ66فیصد، کیلا 0اعشاریہ93فیصد، پیٹرول 0اعشاریہ83فیصد، ڈیزل 0اعشاریہ78فیصد، آٹا 0 اعشاریہ 76فیصد، ایک کلو بناسپتی گھی 0اعشاریہ46فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0اعشاریہ33فیصد کمی ہوئی۔
اس کے برعکس، چکن کی قیمت میں 10اعشاریہ20فیصد، انڈے میں 7اعشاریہ36فیصد، چینی میں 1اعشاریہ93فیصد، بیف میں 1اعشاریہ50فیصد، دال ماش میں 0اعشاریہ31فیصد، پکی بیف میں 0اعشاریہ20فیصد، مٹن میں 0اعشاریہ15فیصد اور گڑ میں 0اعشاریہ11فیصد اضافہ ہوا۔
سب سے کم یعنی 17732روپے ماہوار آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے قیمتوں کے حساس اعشاریہ میں 0اعشاریہ10 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 17733روپے سے لیکر 22888روپے، 22889روپے سے لیکر 29517روپے، 29518 روپے سے لیکر 44175 روپے اور اس سے زیادہ ماہوار آمدنی رکھنے والے طبقوں کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں بالترتیب 0اعشاریہ18فیصد، 0 اعشاریہ20فیصد، 0اعشاریہ26 فیصد اور 0اعشاریہ26 فیصد اضافہ ہوا۔صارفین کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریہ کا تعین ملک کے 17بڑے شہروں کی 50مارکیٹوں میں 51ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی بیشی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی ڈرل مشقیں کرنے کا فیصلہ وفاقی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی ڈرل مشقیں کرنے کا فیصلہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر کی 48 گھنٹے میں دوسری اہم ملاقات، پاک بھارت کشیدگی اور سرحدوں کی صورتحال پر.

.. پاک بھارت کشیدگی ،سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ پاکستان کے دورہ پر پہنچ گئے شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا کی میزبانی میں بکنگھم پیلس میں سیزن کی پہلی رائل گارڈن پارٹی، برٹش پاکستانی شخصیت سید سجاد حیدر کاظمی... آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم مہارت یا ٹیکنالوجی کا کمال:پاک فوج کے ہاتھوں تباہ رافیل طیاروں کے بھارتی پائلٹس نے کیسے جان بچائی؟ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے