بھارت کے 3 فوجی اڈوں پر حملہ؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارت کی جانب سے تین فوجی تنصیبات پر پاکستانی میزائل اور ڈرون حملے کے دعوے کو بے بنیاد، جھوٹا اور اشتعال انگیز پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، بھارتی فوج نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر یہ دعویٰ کیا، لیکن جھوٹے دعوؤں کے باعث بھارتی میڈیا خود جگ ہنسائی کا شکار بن گیا۔
بھارتی فوج نے جمعرات کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر دعویٰ کیا کہ پاکستان نے جموں، اُدھم پور (انڈیا کے زیر انتظام کشمیر) اور پٹھان کوٹ (انڈین پنجاب) میں واقع تین فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا کیونکہ تمام میزائل اور ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبر ایجنسی کی صحافی آزادے مشیری سے گفتگو میں کہا کہ’’میں واضح طور پر اس کی تردید کرتا ہوں، ہم نے ایسا کوئی حملہ نہیں کیا۔ اگر ہم حملہ کریں گے تو سب کو پتا چل جائے گا، ہم حملہ کر کے اس سے انکار نہیں کریں گے۔“
اس جھوٹے بھارتی دعوے کے بعد، کچھ بھارتی نیوز چینلز نے مزید قیاس آرائیاں شروع کر دیں، جن میں کہا گیا کہ پاکستان نے بھوج (ریاست گجرات) سے لے کر کشمیر تک کئی علاقوں پر حملہ کیا ہے۔
اس پروپیگنڈے کو پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ گھڑ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی ہیکرز کا کارنامہ، آپریشن سالار کا آغاز، کئی بھارتی ویب سائٹس ہیک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔