اسرائیلی ساختہ ہاروپ ڈرون، کتنا مؤثر جنگی ہتھیار؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 مئی 2025ء) پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعرات کے روز بھارت نے اس کی سرزمین پر کئی حملہ آور ڈرون بھیجے، جن میں سے 29 کو مار گرایا گیا۔ فوج کے مطابق، ان ڈرونز میں اسرائیلی ساختہ ہاروپ بھی شامل تھے، جو بھارت کے عسکری اثاثوں کا حصہ ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق بھارت کی طرف سے داغے گئے ڈرونز میں سے ایک نے لاہور کے قریب ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار اہلکار زخمی ہو گئے، جبکہ دوسرا ڈرون راولپنڈی میں گرا، جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بالکل قریب واقع ہے۔
اگرچہ بھارت نے ان براہِ راست ڈرون حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی لیکن بھارتی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی مسلح افواج نے پاکستان میں ''لاہور سمیت کئی مقامات پر فضائی دفاعی ریڈارز اور سسٹمز کو نشانہ بنایا۔
(جاری ہے)
‘‘ تاہم اس بیان میں پاکستانی دعوے کے مطابق 29 ڈرونز کے مار گرائے جانے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان سرحدی کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور دونوں جانب سے عسکری حملوں کے الزامات اور جوابی اقدامات جاری ہیں۔
ہاروپ ڈرون کتنا مؤثر ہتھیار ہے؟بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) کی ملٹری بیلنس رپورٹ کے مطابق بھارت کے فوجی اثاثوں میں اسرائیلی ساختہ ہاروپ (HAROP) ڈرون بھی شامل ہے، جو اسرائیلی ایرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) کا تیار کردہ ایک جدید ترین ہتھیار ہے۔
ہاروپ ہتھیاروں کا ایک ایسا نظام ہے، جو بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون اور میزائل دونوں کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے۔ اسے طویل فاصلے سے روانہ کیا جا سکتا ہے اور یہ میدانِ جنگ میں قیمتی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سپلائی ڈپو، ٹینک اور فضائی دفاعی نظام۔
یہ ڈرون اپنے برقی بصری (Electro-optic) سینسرز کی مدد سے کسی پیشگی انٹیلی جنس کے بغیر نو گھنٹے تک فضا میں رہتے ہوئے مقررہ علاقے میں اہداف تلاش کرتا ہے، ان کی شناخت کرتا ہے اور پھر کسی بھی زاویے سے، سطحی یا عمودی غوطے کے انداز میں حملہ کرتا ہے۔
ہاروپ کو جی این ایس ایس (GNSS) جیمنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے یہ انتہائی متنازعہ علاقوں میں بھی مؤثر رہتا ہے۔ یہ ''انسانی نگرانی میں‘‘ میں چلنے والا ایک ایسا ہتھیار ہے، جس کا کنٹرول ایک ریموٹ آپریٹر کے پاس ہوتا ہے، جو کسی بھی مرحلے پر مشن منسوخ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ہاروپ کو موبائل لانچرز، جیسے ٹرکوں یا بحری جہازوں پر نصب کینسٹرز سے فائر کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ ہر طرح کے جغرافیائی حالات میں آسانی سے قابل استعمال ہے۔
شکور رحیم اے پی کے ساتھ
ادارت: افسر اعوان
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق کرتا ہے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔