Daily Pakistan:
2026-07-24@08:19:36 GMT

پاکستان بھارت کو کب اور کیسے جواب دے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

پاکستان بھارت کو کب اور کیسے جواب دے گا؟

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور دونوں ممالک ایک ممکنہ تصادم کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ پاکستانی فوج کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ بھارت کو اپنے منتخب کردہ وقت اور مقام پر جواب دے گی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسا جواب دینا چاہتا ہے جس سے بھارت کو نقصان ہو مگر کشیدگی مکمل جنگ کی سطح تک نہ پہنچے۔

الجزیرہ کے مطابق یونیورسٹی آف البینی کے اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹوفر کلاری نے کہا کہ جنگ ابھی دور ہے، لیکن ہم اس کے کہیں قریب تر آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا ممکنہ طور پر اگلا قدم ہو سکتا ہے۔ کلاری نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی ریڈار سسٹمز پر ڈرون حملے اور پاکستان کی جانب سے بھارتی فوجی تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملوں کی اطلاعات اس کشیدگی کا ثبوت ہیں۔ان کے بقول اگلے 24 گھنٹوں میں مزید حملوں کا خدشہ ہے اور جانی نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھارت کی ایک اور بڑی شکست ، آئی ایم ایف نے دوسری قسط کی منظوری دے دی

نیو لائنز انسٹیٹیوٹ واشنگٹن کے سینئر ڈائریکٹر کامران بخاری نے بھی اس صورتحال کو 2019 کے مقابلے میں زیادہ خطرناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک "کشیدگی کا ایسا چکر جو مسلسل شدت اختیار کرتا جائے" میں پھنس چکا ہے، جہاں پاکستان کے کسی بھی اقدام کے جواب میں بھارت اپنی شدت بڑھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی یہ پالیسی کہ وہ جواب اپنے وقت پر دے گی، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں جس سے کشیدگی کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ تاہم اس کا انحصار پاکستان کی صلاحیتوں اور عملی مجبوریوں پر ہوگا۔

پاکستان  اور بھارت کے درمیان ابھی تک براہ راست بات چیت نہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اعلان کردیا

عالمی مشاورتی ادارے کنٹرول رسکس سے وابستہ عرسلہ جاوید کے مطابق پاکستانی فوج پر عوامی اور سیاسی دباؤ ہے کہ وہ ایک مضبوط اور ٹھوس جواب دے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی فوجی اثاثوں پر درست نشانے والے حملے متوقع ہیں، جن کا مقصد شہری جانی نقصان سے گریز کرتے ہوئے بھارت کو واضح پیغام دینا ہو گا۔ ان کے مطابق ایسے حملے کشیدگی کو محدود رکھتے ہوئے مؤثر جواب کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کی جانب سے بھارت کو کے مطابق

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا