UrduPoint:
2026-06-03@05:19:49 GMT

پاک بھارت لڑائی اور چین کے لیے انٹیلی جنس کے مواقع

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

پاک بھارت لڑائی اور چین کے لیے انٹیلی جنس کے مواقع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 مئی 2025ء) سکیورٹی ماہرین اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی فوجی صلاحتیں اس مقام پر پہنچ چکی ہے، جہاں وہ سرحدی تنصیبات، بحر ہند میں بحری بیڑوں اور خلائی سیٹلائٹس کے ذریعے بھارتی سرگرمیوں کی حقیقی وقت میں گہری نگرانی کر سکتا ہے۔ سنگاپور کے سکیورٹی تجزیہ کار الیگزینڈر نیل نے کہا، ''انٹیلی جنس کے نقطہ نظر سے، یہ چین کی سرحد پر ایک اہم ممکنہ دشمن کے خلاف نادر موقع ہے۔

‘‘

دو امریکی حکام کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے چینی ساختہ جے-10 جنگی طیارے نے کم از کم دو بھارتی فوجی طیاروں کو مار گرایا، جن میں سے ایک فرانسیسی ساختہ رافال لڑاکا طیارہ تھا۔ بھارت نے اپنے کسی طیارے کے نقصان کی تصدیق نہیں کی، جبکہ پاکستان کے وزرائے دفاع و خارجہ نے جے-10 طیاروں کے استعمال کی تصدیق کی لیکن استعمال شدہ میزائلوں یا دیگر ہتھیاروں پر تبصرہ نہیں کیا۔

(جاری ہے)

یہ فضائی جھڑپ دنیا بھر کی فوجوں کے لیے پائلٹوں، جنگی طیاروں اور ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مطالعہ کرنے اور اپنی فضائیہ کو جنگ کے لیے تیار کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔

بھارت اور چین کی طویل تزویراتی دشمنی

بھارت اور چین کو، جو ایشیا کی دو بڑے ایٹمی طاقتیں ہیں، طویل المدتی تزویراتی حریف سمجھا جاتا ہے۔

دونوں کے درمیان 3,800 کلومیٹر طویل ہمالیائی سرحد سن 1950 کی دہائی سے متنازع ہے، اور جو سن 1962 میں ایک مختصر جنگ کی بھی وجہ بنی۔ سن 2020 میں شروع ہونے والا سرحدی تناؤ اکتوبر میں ایک معاہدے کے بعد کم ہوا تھا۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک نے سرحد پر اپنی فوجی تنصیبات اور صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے لیکن چین کی خلائی نگرانی اسے انٹیلی جنس جمع کرنے میں برتری دیتی ہے۔

لندن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کے مطابق، چین کے پاس 267 سیٹلائٹس ہیں، جن میں 115 انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے لیے اور 81 فوجی الیکٹرانک اور سگنلز کی نگرانی کے لیے ہیں۔ یہ نیٹ ورک بھارت سمیت خطے کے دیگر حریفوں سے کہیں بڑا اور صرف امریکہ سے پیچھے ہے۔

نیل، جو ہوائی کے پیسفک فورم تھنک ٹینک کے فیلو ہیں، نے کہا، ''خلائی اور میزائل ٹریکنگ صلاحیتوں کے لحاظ سے چین اب بہت بہتر پوزیشن میں ہے کہ وہ واقعات کو حقیقی وقت میں مانیٹر کر سکے۔

‘‘

چین کی وزارت دفاع نے اپنے فوجی سیٹلائٹس کی تعیناتی یا انٹیلی جنس جمع کرنے کے بارے میں نیوز ایجنسی روئٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔ پاکستان کے فوجی میڈیا ونگ اور وزیر اطلاعات نے بھی چین کے ساتھ معلومات کے اشتراک پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

پاکستان نے ماضی میں کہا تھا کہ اس کی چین کے ساتھ ''ہر موسم میں قائم رہنے والی تزویراتی اور تعاون پر مبنی شراکت داری‘‘ ہے۔

بھارت نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن برطانیہ میں بھارت کے ہائی کمشنر وکرم دوریسوامی نے جمعرات کو اسکائی نیوز کو بتایا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات بھارت کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ''چین کو اپنے تمام ہمسایوں، بشمول ہمارے ساتھ تعلقات کی ضرورت ہے۔‘‘ میزائلوں پر گہری نظر

تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چینی فوجی انٹیلی جنس ٹیمیں بھارت کے فضائی دفاعی نظاموں، کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی تعیناتی، ان کے پرواز کے راستوں، درستی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈیٹا پر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

خاص طور پر بھارت کے براہموس سپرسونک کروز میزائل، جو اس نے روس کے ساتھ مل کر تیار کیا، کی تعیناتی چین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گی، کیونکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسے اب تک جنگی حالات میں استعمال نہیں کیا گیا۔ بحری انٹیلی جنس کی صلاحیت

چین نے بحر ہند میں بھی اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بڑھایا ہے۔ اوپن سورس انٹیلی جنس ٹریکرز کے مطابق، چین نے خلائی ٹریکنگ جہازوں، سمندری تحقیقاتی جہازوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کو طویل مشنوں پر تعینات کیا ہے۔

خطے کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چینی بحریہ بحر ہند میں جنگی جہازوں کی وسیع تعیناتی سے محتاط رہی ہے اور اسے ابھی بیسز کا وسیع نیٹ ورک میسر نہیں، لیکن یہ دیگر جہازوں کے ذریعے فعال طور پر انٹیلی جنس جمع کرتی ہے۔

گزشتہ ہفتے کچھ ٹریکرز نے نوٹ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بحیرہ عرب میں بھارتی بحری مشقوں کے مقام سے 120 ناٹیکل میل کے فاصلے پر چینی ماہی گیروں کی کشتیوں کے بڑے بیڑے غیر معمولی طور پر منظم انداز میں حرکت کر رہے تھے۔

پینٹاگون کی رپورٹس اور تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کے ماہی گیروں کے بیڑے باقاعدگی سے ایک مربوط ملیشیا کا کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بیڑے انٹیلی جنس جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اوپن سورس ٹریکر ڈیمین سائمن نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا کہ یکم مئی کو بھارتی بحری مشقوں کے قریب 224 چینی جہازوں کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''یہ جہاز جاسوسی کے مراکز کے طور پر کام کر سکتے ہیں، پیش رفت کے ماڈلز اور ردعمل کے انداز کو ٹریک کرتے ہیں اور اپنے سرپرستوں کو ابتدائی انتباہ اور بحری انٹیلی جنس فراہم کرتے ہیں۔

‘‘

چینی حکام عام طور پر ماہی گیروں کی ملیشیا یا دیگر برائے نام سول جہازوں کے انٹیلی جنس کردار کو تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات

پاکستان کے ساتھ گہرے تزویراتی تعلقات کی بدولت، بیجنگ حکومت اپنے سفارت کاروں اور فوجی ٹیموں کے نیٹ ورک کے ذریعے بھی اہم معلومات حاصل کر سکتی ہے۔ سنگاپور میں ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چینی سکیورٹی اسکالر جیمز چار نے کہا، ''پاکستان کی وزارت دفاع چین سے اپنے جدید ترین فوجی ہارڈویئر درآمد کرتی ہے، اس لیے یہ یقینی ہے کہ پی ایل اے متعلقہ ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکے گی۔‘‘

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انٹیلی جنس جمع سفارت کاروں پاکستان کے کی تعیناتی ماہی گیروں کاروں کا کے مطابق بھارت کے کرتے ہیں کے ساتھ نہیں کی کے لیے چین کے چین کی نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان