Daily Ausaf:
2026-06-02@23:49:27 GMT

پاک بھارت کشیدگی میں‌چین کابڑافائدہ ہوگیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

بیجنگ(نیوز ڈیسک)پاک بھارت کشیدگی نے چین کو انٹیلی جنس کے وسیع مواقع فراہم کر دیے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر تنازع، چین کو بھارت کے ساتھ اس کی دشمنی میں انٹیلی جنس کی بھرپور پیداوار فراہم کرتا ہے، کیوں کہ چین اپنے لڑاکا طیاروں اور پاکستان کی جانب سے کارروائی میں استعمال ہونے والے دیگر ہتھیاروں سے اعداد و شمار حاصل کر رہا ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی فوجی جدیدکاری اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنی سرحدی تنصیبات اور بحر ہند کے بحری بیڑوں کے ساتھ ساتھ خلا سے بھی بھارتی اقدامات کا گہرائی سے جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سنگاپور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار الیگزینڈر نیل کا کہنا ہے کہ ’انٹیلی جنس کے نقطہ نظر سے یہ چین کی سرحدوں پر مواقع کا نایاب ہدف ہے، جس میں اس کا ایک اہم ممکنہ حریف شامل ہے۔

دو امریکی حکام کا ماننا ہے کہ چینی ساختہ جے 10 پاکستانی لڑاکا طیارے نے کم از کم 2 بھارتی فوجی طیاروں کو مار گرایا، جن میں سے ایک فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارہ تھا۔

بھارت نے سرکاری سطح پر اپنے کسی طیارے کے نقصان کا اعتراف نہیں کیا، جب کہ پاکستان کے وزرائے دفاع اور خارجہ نے جے 10 طیاروں کے استعمال کی تصدیق کی ہے، لیکن اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ کون سے میزائل یا دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے۔

پاک بھارت فضائی تصادم دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک نادر موقع تصور کیا جارہا ہے کہ وہ فعال لڑائی میں پائلٹس، لڑاکا طیاروں اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مطالعہ کریں، اور اسے جنگ کے لیے اپنی فضائی افواج کو تیار کرنے میں استعمال کریں۔

مسابقتی علاقائی جوہری طاقتوں، بھارت اور چین کو وسیع پیمانے پر طویل المدتی تذویراتی حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو 3 ہزار 800 کلو میٹر طویل ہمالیائی سرحد کا اشتراک کرتے ہیں، جو 1950 کی دہائی سے متنازع ہے اور 1962 میں دونوں ایک مختصر جنگ بھی لڑچکے ہیں۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے سرحد پر اپنی فوجی تنصیبات اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے، لیکن خلا سے ہی چین انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) نے نوٹ کیا کہ چین اب 267 سیٹلائٹ تیار کر رہا ہے، جن میں 115 انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے لیے وقف ہیں، جب کہ مزید 81 فوجی الیکٹرانک اور سگنل معلومات کی نگرانی کرتے ہیں، یہ ایسا نیٹ ورک ہے جو بھارت سمیت اپنے علاقائی حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے، اور امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

ہوائی کے پیسیفک فورم تھنک ٹینک میں معاون فیلو نیل نے کہا کہ خلائی اور میزائل ٹریکنگ کی صلاحیتوں کے لحاظ سے، چین اب چیزوں کی نگرانی کرنے کے قابل ہونے کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔

چین کی وزارت دفاع نے فوری طور پر اپنے فوجی سیٹلائٹس کی تعیناتی کے بارے میں ’رائٹرز‘ کے سوالات اور انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے بارے میں دیگر سوالات کا جواب نہیں دیا۔

پاکستان کے ملٹری میڈیا ونگ اور وزیر اطلاعات نے بھی فوری طور پر چین کے ساتھ معلومات کے تبادلے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بھارت نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن برطانیہ میں اس کے ہائی کمشنر وکرم ڈورائی سوامی نے جمعرات کو اسکائی نیوز کو بتایا تھا کہ پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات بھارت کے لیے باعث تشویش نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ چین کو اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی ضرورت ہے، جس میں ہم بھی شامل ہیں۔

میزائلوں کی تعیناتی

تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چینی ملٹری انٹیلی جنس ٹیمیں بھارت کی جانب سے فضائی دفاع کے استعمال، کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے لانچ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہشمند ہوں گی۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے براہموس سپرسونک کروز میزائل کی کسی بھی قسم کی تعیناتی خاص دلچسپی کا باعث ہوگی، تاہم ایسا نہیں لگتا کہ اسے جنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔

چین نے سمندر میں بھی اپنی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے میں اضافہ کر دیا ہے۔

اوپن سورس انٹیلی جنس ٹریکرز کا کہنا ہے کہ چین حالیہ برسوں میں بحر ہند میں تیزی سے فعال ہوا ہے، چین نے خلائی ٹریکنگ جہازوں کے ساتھ ساتھ سمندری تحقیق اور ماہی گیری کے جہازوں کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا ہے۔

علاقائی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چینی بحریہ بحر ہند میں وسیع پیمانے پر جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی کے بارے میں نسبتاً محتاط رہی ہے، لیکن وہ فعال طور پر دوسرے جہازوں کے حوالے سے انٹیلی جنس تلاش کرتی ہے۔

گزشتہ ہفتے کچھ ٹریکرز نے دیکھا کہ چین کے ماہی گیر بحری جہازوں کے غیر معمولی طور پر بڑے بیڑے بحیرہ عرب میں بھارتی بحری مشقوں سے 120 ناٹیکل میل کی حدود میں گھوم رہے تھے، حالاں کہ یہ وہ وقت ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے۔

پینٹاگون نے چین کی فوجی جدیدکاری کے بارے میں رپورٹیں پیش کی ہیں، اور تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ چین کے ماہی گیری بیڑے باقاعدگی سے ایک مربوط ملیشیا کا کام انجام دیتے ہیں، جو انٹیلی جنس اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اوپن سورس ٹریکر ڈیمن سیمون نے یکم مئی کو بھارت کی بحری مشقوں کے قریب 224 چینی بحری جہازوں کی تعیناتی کے حوالے سے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ جہاز ممکنہ طور پر سننے والے مراکز کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں، جو ترقی کی رفتار اور ردعمل کے انداز کا پتہ لگاتے ہیں، اور اپنے اسپانسرز کو ابتدائی خبردار کرنے والی بحری انٹیلیجنس فراہم کرتے ہیں۔

چینی حکام عام بحری جہازوں کے ذریعے ’ماہی گیری ملیشیا‘ یا انٹیلی جنس کے کام کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستان کے ساتھ اپنے گہرے اور وسیع اسٹریٹجک تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیجنگ سے یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے سفیروں اور فوجی ٹیموں کے نیٹ ورک سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔

سنگاپور کے ایس راجرتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چینی سیکیورٹی اسکالر جیمز چار نے کہا کہ پاکستان میں چینی فوجی مشیروں اور دیگر اہلکاروں کی موجودگی سب کو معلوم ہے کہ کس طرح پاکستان کی وزارت دفاع چین سے اپنے جدید ترین فوجی سازوسامان درآمد کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) متعلقہ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان اور بھارت کو جنگ کی طرف کون دھکیل سکتا ہے؟ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے بتا دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کاروں کا کہنا ہے کہ کا کہنا ہے کہ چین تجزیہ کاروں بحری جہازوں کے بارے میں کی تعیناتی انٹیلی جنس پاکستان کے جہازوں کے کے ساتھ کے لیے چین کی نے کہا چین کے چین کو

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان