مودی سرکار آپریشن سندور میں بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کا اعتراف کرے، سابق فوجیوں کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
بھارتی فوج کے سابق افسران نے حکومت اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آپریشن سندور میں مارے گئے بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کا باضابطہ اعتراف کریں۔ دہلی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ جرنیلوں اور افسران نے کہا کہ حکومت کی خاموشی نہ صرف سچائی سے فرار ہے بلکہ شہدا کے خاندانوں کی توہین بھی ہے۔
سابق فوجیوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور میں ہمارے 10 جوان مارے گئے جن کی فہرست ہمارے پاس ہے لیکن وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ کوئی جوان شہید نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی پارلیمنٹ میں نام نہاد ’آپریشن سندور‘ پر بحث: پاکستان نے جھوٹے اور اشتعال انگیز بیانات مسترد کردیے
انہوں نے کہا بی جے پی حکومت کی خاموشی اُن خاندانوں کے لیے گہری توہین ہے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو بھارت کے دفاع کے لیے قربان کیا۔
پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران متعدد بھارتی فوجی شہید ہوئے لیکن ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سابق فوجیوں نے کہا کہ ان جوانوں کے خاندان سوال پوچھ رہے ہیں کہ آپ نے ان کی شہادت کو قبول کرنے سے کیوں انکار کردیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سندور بھارتی فوج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔