بھارتی اپوزیشن نے مودی سرکار کو آپریشن سندور ناکامی پر گھیر لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو آپریشن سندور کی ناکامی پر اپوزیشن جماعتوں کے شدید سوالات کا سامنا ہے۔
اپوزیشن لیڈروں نے لوک سبھا میں مودی سرکار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سرنڈر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’’وزیراعظم مودی نے یہ نہیں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ جھوٹا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ کیا معاملہ ہوا اور سچائی کیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر مودی نے بول دیا کہ ٹرمپ جھوٹا ہے تو پھر ٹرمپ کھل کر بولے گا۔ مودی نے کچھ بولا تو امریکی صدر ٹرمپ سچائی کھول کر دکھا دے گا۔‘‘
جنتا دل (سیکیولر) کے رہنما ملیکارجن کھڑگے نے بھی مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی میں اتنی ہمت نہیں کہ کہے ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے۔ دال میں کچھ کالا ہے اس لیے مودی امریکی صدر ٹرمپ کو کچھ بولتے نہیں۔‘‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’مودی سرکار نے کیوں اور کیسے مانا کہ تیسرا فریق بات چیت میں آئے؟ عوام کو بتانا چاہیے کہ امریکا کو درمیان میں لانے کے پیچھے کیا کمزوری تھی؟‘‘
کھڑگے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’مودی نے 2 گھنٹے کی تقریر کی لیکن ٹرمپ کا نام تک نہیں لیا۔ ملک کے تشخص کو خراب کرنے کے لیے مودی سرکار جھوٹ بول رہی ہے۔ مودی سرکار کے جھوٹ اور ملکی تشخص خراب کرنے کی مذمت کرتا ہوں۔‘‘
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ’’نااہل مودی سرکار کی ناکامی کی داستان میں روز ایک نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ امریکی صدر ٹرمپ متعدد بار پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کا ذکر کرچکے ہیں۔
یہ سیاسی تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب مودی سرکار نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے سے گریز کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ معاملہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ٹرمپ مودی سرکار کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔