پاکستان نے بھارتی لوک سبھا میں آپریشن سندور سے متعلق بیانات کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان نے بھارتی لوک سبھا میں آپریشن سندور سے متعلق بیانات کو مسترد کردیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی رہنماؤں کے الزامات اور اشتعال انگیز دعوے بے بنیاد ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی بیانات حقائق مسخ کرنے اور جارحیت کو جواز دینے کی کوشش ہیں، دنیا جانتی ہے کہ پہلگام حملے کی تحقیقات کے بغیر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، بھارت اپنے اسٹریٹیجک اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رہنما اپنے نقصان تسلیم کریں اور تیسرے فریق کے کردار کو مانیں، پاکستان نے شفاف، آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جو بھارت نے مسترد کی، بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا اور خود ہی جج، منصف اور جلاد بن گیا۔
سونے کی قیمت میں معمولی کمی
شفقت علی خان نے کہا کہ آپریشن مہادیو سے متعلق بھارتی دعوے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، بھارتی وزیر داخلہ کا بیان جھوٹ اور کہانیوں پر مبنی ہے، پہلگام حملے کے مبینہ ملزمان لوک سبھا بحث کے آغاز کے موقع پر ہی مارے گئے، بھارت کے نئے نارمل کے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مئی میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ تعلقات کا واحد اصول خود مختاری کا احترام اور اقوام متحدہ چارٹر پر عمل ہے۔ پاکستان پر ایٹمی بلیک میلنگ کے بھارتی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ اسلام آباد نے بھارت کو روایتی صلاحیتوں کے ذریعے روکا۔
چینی بحران ؛ 2 شوگر ڈیلرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بیانات بے بنیاد ہیں، بھارت کا معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی توہین ہے، بھارت کا یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائی پر فخرکرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت غلط معلومات، جنگی جنون اور بڑھک بازی سے خطہ غیر مستحکم کررہا ہے، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور بامقصد مذاکرات کا خواہاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کہا کہ بھارت پاکستان نے کہ بھارتی نے کہا کہ نے بھارت
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں