مودی اور امیت شاہ بین الاقوامی سند یافتہ دہشت گرد ہیں، راجہ فاروق
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعطم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مودی نے پاکستان اور ہندوستان کے دوران کشیدگی بڑھا کر جارحیت کرنے کی آڑ میں ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نہتی آبادی کے قتل عام کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہندوستان دو منہ والا سانپ ہے، مودی اور امیت شاہ بین الاقوامی سند یافتہ دہشت گرد ہیں، پاکستان اور ہندوستان کے دوران کشیدگی بڑھا کر جارحیت کرنے کی آڑ میں ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نہتی آبادی کے قتل عام کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے، متعدد مکانات کو بارود لگا کر اُڑا دیا گیا، نوجوانوں، بزرگوں، کاروباری افراد کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، اب اس نے انسانیت دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے اندر کئی دہائیوں سے شادی شدہ خواتین کو ان کے خاندان اور بچے چھوڑ کر واپس آزاد کشمیر بھیجنا شروع کر دیا ہے، شادی کے 48سال بعد خواتین کو مقبوضہ کشمیر سے واپس آزاد کشمیر بھیجنا انسانی حقوق، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے، نیویارک، جنیوا، یورپی یونین سمیت اہم ممالک اور تنظیموں کے ساتھ ہندوستانی جارحیت کے ساتھ ساتھ انسانیت دشمنی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے۔ ان خیالات ک اظہار سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر مقبوضہ کشمیر کے اندر تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے، وادی کے اندر مسلم اکثریتی آبادی کو نشانہ بنا کر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا بہانہ بنانے اور سندھ طاس معاہدہ سمیت دیگر اہم معاہدوں سے غیر قانونی طور پر یکطرفہ دستبرداری فالس فلیگ آپریشن کے مقاصد تھے۔ پاکستان میں ہندوستانی جارحیت نے اُس کے مقاصد پر پانی پھیر دیا، مودی غزہ طرز پر کارروائی کرنا چاہتا ہے، ہندوستان اور اسرائیل مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کو مہارت سے گرانے اور بھرپور دفاع پر مسلح افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ کشمیری 35 سالہ سے ہندوستانی بربریت، ظلم اور نسل کشی کا شکار ہیں، اب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جب کشیدگی عروج پر پہنچی تو اس آڑ میں ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کے اندر شہریوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے، کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں ، مکانات کو بارود سے اڑانے اور اب اس نے شادی ہو کر مقبوضہ کشمیر جانے والے خواتین کو جبراً واپس بھیج کر انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال قائم کی ہے، جس کا بین الاقوامی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
ایک طرف ہندوستان کہتا ہے کہ سارا کشمیر میرا حصہ ہے دوسری جانب وہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین اور خاندانوں کو مقبوضہ کشمیر سے جبراً واپس بھیجوا رہا ہے، مودی ہندوستان کے قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، ایل او سی کے آر پار صدیوں سے لوگ اکٹھے رہ رہے تھے جن کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں، ان کو ایک دوسرے سے ملنے اور آنے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمیں لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، پاکستان کو یہ معاملہ سلامتی کونسل میں فوری لے جانا چاہیے، مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہ تھا نہ ہے نہ رہے گا، 60ء کی دہائی تک ہندوستان کا کوئی بھی شہری مقبوضہ کشمیر آتا تو باضابطہ اجازت لے کر ریاست میں داخل ہوتا تھا۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی جارحیت کے خلاف جس طرح سے موثر انداز میں سفارتی سطح پر پاکستانی موقف پیش کیا گیا ہے اسی طرح اس جارحیت کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کے اندر کی جانے والی نسل کشی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کیلئے سفارتی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقبوضہ کشمیر کے اندر بین الاقوامی میں ہندوستان ہندوستان کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی