بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، پاکستان دہشتگردی کیخلاف بھرپور کردار ادا کر رہا ہے: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارتی جارحیت کا جواب دیا، پاک فضائیہ نے بھارت کے 5 طیارے مار گرائے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ایک ذمے دار ریاست ہے جس نے 3 روز تحمل کا مظاہرہ کیا۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا ہے کہ عالمی برداری نے ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت کی، بھارت پہلگام واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات سے کیوں ہچکچا رہا ہے؟ بھارت بلوچستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ہم نے اپنی سر زمین سے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو گرفتار کیا۔ بھارت مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ قبل ازیں ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارتی جارحیت کا جواب دیا اور دیتا رہے گا۔ بھارت ہمیشہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے اسطرح کی کارروائی کرتا ہے، بھارت دہشتگرد حملوں کو وجہ بنا کر سکیورٹی معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور بھارت توجہ ہٹانے کیلئے اپنے ملک کے مسلمانوں یا پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔ بھارت نے تربیتی کیمپوں اور دہشتگردوں کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔ بھارت پہلگام واقعہ پر اب تک کسی دہشتگرد کا نام سامنے نہیں لا سکا جبکہ سچ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان میں شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارتی رویے نے کسی طرح کے بھی ڈائیلاگ کا ہونا بہت مشکل بنا دیا۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ تمام معاملات پر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ عالمی برادری بین الاقوامی اداروں اور قوانین کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارتی جارحیت کا کر رہا ہے جواب دیا
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔