امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تجارت میں خاطر خواہ اضافہ کریں گے اور دونوں ممالک کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بھی کام کریں گے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کی جانب سے جنگ بندی کے فیصلے کو ”تاریخی اور جرات مندانہ“ قرار دیا اور کہا کہ امریکا کو فخر ہے کہ اس نے اس اہم لمحے میں کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’پاکستان اور بھارت کی قیادت نے صحیح وقت پر جنگ بندی کا فیصلہ کیا، اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو بہت سارے لوگ مارے جاتے اور تباہی پھیلتی۔ میں دونوں ممالک کی مضبوط اور غیر متزلزل قیادت پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ آپ کے بہادرانہ اقدام نے آپ کی میراث میں اچھا اضافہ کیا ہے۔‘

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ’یہ بات ابھی زیر بحث نہیں آئی، لیکن میں پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تجارت کو نمایاں طور پر بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘

انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا، ’میں دیکھوں گا کہ کیا ہم ’ہزار سال‘ بعد اس مسئلے کا کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر اس دیرینہ مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ دونوں ممالک کے پاس حکمت بھی ہے اور طاقت بھی۔‘

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا