دنیا بھر کی سکھ برادری بھارت کیخلاف، پاکستان کے ساتھ ہے:رمیش سنگھ اروڑا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
لاہور(آئی این پی ) پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی سکھ برادری بھارت کیخلاف اور پاکستان کے ساتھ ہے۔اپنے ایک بیان میں سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ بھارت نے امرتسر اور گولڈن ٹیمپل پر بھی فالس فلیگ آپریشن کیا، بھارت نیخواتین اوربچوں کو نشانہ بنایا، معصوم بچوں کا لہو پوچھتا ہے ہم کس سے انصاف لیں، بھارت سکھ مسلم دوستی کو خراب کرنا چاہتا ہے۔سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان نے بھارت میں سکھوں کے کسی مذہبی مقام پر حملہ نہیں کیا، یہاں تمام اقلیتوں کے حقوق کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے، دنیا بھر کے سکھوں کو مکمل یقین ہے پاکستان ان کے مذہبی مقامات پرکبھی حملہ نہیں کر سکتا۔انھوں نے مزید کہا کہ بھارت میں بسنے والی اقلیتیں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں، آج بھارت کے اندر مسیحی، کشمیری، سکھ، مسلمان سب پریشان ہیں، امن ہماری خواہش ہے کمزوری نہیں، آج بھی کرتار پور کے دروازے کھلے ہیں اور سکھ یاتریوں کا ویزا ختم نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔