سیز فائر کے بعد بالآخر نواز شریف منظرِ عام پر آگئے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اپنے بیان میں مشیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی خدمت میں عرض ہے جو مکا اور تھپڑ جنگ کے بعد یاد آئے، اُسے اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکڑ سیف نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سیز فائر کے بعد بالآخر نواز شریف منظرِ عام پر آئے، سیز فائر کے بعد نواز شریف کے بیانات خود اُن پر الٹ رہے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی خدمت میں عرض ہے جو مکا اور تھپڑ جنگ کے بعد یاد آئے، اُسے اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ دوران جنگ باپ بیٹی دونوں نے منہ پر پٹی باندھی تھی اور سیز فائر کے بعد دونوں ایسے نمودار ہوئے جیسے بھارت انہوں نے فتح کرلیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حقیقی لیڈر عمران خان نے قید میں رہ کر بھی مودی کو للکارا لیکن نواز شریف نے آزاد ہو کر بھی مودی اور بھارت کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا، پھر کہتے ہیں قوم عمران خان کے پیچھے کیوں کھڑی ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ مودی کو للکارنے والا مردِ مجاہد صرف عمران خان ہے لیکن نواز شریف میں یہ جرات نہیں، نواز شریف صرف جاتی امرا میں مودی کی خاطر تواضع کر سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ جعلی حکومت صرف عمران خان کے خلاف جعلی مقدمات بنانے میں مہارت رکھتی ہے، فارم 47 کی حکومت موجودہ حالات میں بھی سیاسی بغض و عناد سے باز نہیں آ رہی۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک قوم بنانے والا واحد لیڈر عمران خان ہے لہٰذا عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیز فائر کے بعد نواز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔