اسرائیل اور بھارت ایک جگہ پر کھڑے ہیں، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پشاور میں تحفظ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کے اجتماع کی آواز نمائندگی پوری قوم اور امت مسلمہ کی طرف سے ہے، پاکستان کے عوام فلسطینی بھائیوں اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے متحد ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسلح افواج کے سربراہوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی کا وقت ختم ہوچکا ہے اور ہم بھارتی آبی جارحیت کا بھی جواب دیں گے۔ پشاور میں تحفظ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کے اجتماع کی آواز نمائندگی پوری قوم اور امت مسلمہ کی طرف سے ہے، پاکستان کے عوام فلسطینی بھائیوں اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے متحد ہیں، ہم نے جلسوں میں بار بار کہا اسرائیل اور بھارت ایک جگہ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا سرکاری اعلان کرے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بری اور فضائی سربراہوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، ایک ہفتے میں ثابت ہوگیا اسرائیل اور بھارت ایک ہیں، اسرائیل ایک خنجر ہے جو ہمارے عرب بھائیوں کے کمر میں گھونپ دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ پوچھے کیا بچوں کو قتل کرنا کس ذمرے میں دفاعی جنگ کہہ رہے ہیں، اسرائیل نے جارحیت کی اور عورتوں پر بم باری کی ہے، پوری امت مسلمہ کی قیادت سے کہنا چاہتا ہوں کہ فلسطینی بھائیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اعلان کریں وہ فلسطین کے ساتھ ہیں، آج کے اجتماع نے ثابت کیا قوم ہمارے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پہلگام میں سویلین لوگوں کو قتل کیا گیا، پاکستان نے اس پر تشویش کا اظہار اور مذمت کیا، بھارت نے 10 منٹ میں پاکستان پر الزام لگایا اور ایف آئی آر درج کی۔ مولانا فضل الرحمان نے بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ مودی جی آپ کشمیر میں لوگوں کو سیکیورٹی نہیں دے سکتے، پہلگام کو سیاست اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا، اب کشمیری مسلمان ہماری تائید کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کا وقت ختم ہوچکا ہے، مودی ایسا رسوا اور ذلیل ہوا کہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، بھارت نے پاکستان پر الزام بھی لگایا اور سندھ طاس معاہدہ بھی ختم کیا لیکن سندھ طاس معاہدہ بھارت یک طرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے معاہدے کے تحت تین دریا دیے، دو اپنے پاس رکھے اور اب پانچ دریا ہمارے قبضے میں ہوں گے، ہم بھارت کو آبی جارحیت کا بھی جواب دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، دونوں ممالک کے درمیان عالمی معاہدہ ہے ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے، بھارت نے حملہ کرکے تنازعات کو طاقت سے حل کرنے کی کوشش کی اور طاقت کا جواب مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاہدہ ہے شہریوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، اسرائیل اور بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، بھارت نے ہمارے ایئر بیسز پر حملے کیے تاہم پاکستان نے ایسا جواب دیا کہ ان کے جہازوں کو اڑنے کے قابل نہیں بنایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل اور بھارت انہوں نے کہا کہ بھارت نے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔