راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی 2025ء ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا، ہم ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن بُنْیانٌ مَّرْصُوْص افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور غیرمتزلزل عزم کا استعارہ ہے، پاکستان نے متعدد بار بھارت کو خبردار کیا تھا کہ وہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، پاکستان نے واضح کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے کوئی جارحیت کی گئی تو اُس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، آرمی چیف نے اوورسیز پاکستانی کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 13 لاکھ بھارتی فوج ہتھیاروں سے ہمیں ڈرا اور دھمکا نہیں سکتی، ہم پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔

(جاری ہے)

آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور ملکی سرحدوں اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، فوجی محاذ آرائی کا راستہ بھارت نے چناتو یہ ان کی چوائس ہے، آگے یہ کدھر جاتا ہے یہ ہماری چوائس ہے، اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم تیار ہیں آزمانا نہیں، ہم محاذ آرائی شروع نہیں کریں گے کیوں کہ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں، ہم بھارت کی جارحیت، طاقت اور مکاری سے مرعوب ہونے والی قوم نہیں، ہم ہمیشہ تعمیری بات چیت کے راستے پرعمل کریں گے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بزدل بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال جارحیت کی اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جبکہ مسلح افواج نے دشمن کی جارحیت کا مکمل اور بھرپور جواب دیا، ہم جذبہ شہادت سے سرشار ایک مضبوط فوج ہیں، افواج پاکستان نے پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا اور آگے بھی دیتی رہے گی، کسی کو بھی پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ملک کی سرحدوں کا دفاع ،اس پاک دھرتی کا دفاع ہمارا نصب العین اور ہماری خوش قسمتی ہے، پاکستان نے صرف اپنا دفاع کیا، یہ بھارت ہے جس نے بزدلانہ حملہ کیا تھا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئی ایس پی آر پاکستان نے پاکستان کی جارحیت کا جواب دیا تیار ہیں کریں گے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت