محمد البخیتی، انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن نے تاکید کر کے کہا کہ یمن کی بندرگاہوں پر صیہونی حکومت کا کوئی حملہ نہیں ہوا، اگرچہ ان پر بمباری کے امکانات موجود ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انصاراللہ کی اعلیٰ سطح کی قیادت کے ایک رکن نے کہا ہے کہ اسرائیل نے یمن کی بندرگاہوں پر کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن نے صیہونی حکومت کی جانب سے یمن کی تین بندرگاہوں پر بمباری کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ان بندرگاہوں پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔ محمد البخیتی، انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن نے تاکید کر کے کہا کہ یمن کی بندرگاہوں پر صیہونی حکومت کا کوئی حملہ نہیں ہوا، اگرچہ ان پر بمباری کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے الجزیرہ مباشر کو انٹرویو میں کہا کہ یمن کی کارروائیاں صیہونی حکومت کے خلاف جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن، اسرائیل کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ کے نئے اصول مسلط کرے اور عرب خطے کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائے۔ چند گھنٹے قبل، صیہونی حکومت کی فوج نے یمن میں رأس عیسیٰ، الحدیدہ اور الصلیف کی بندرگاہوں کو فوری طور پر خالی کرنے کی وارننگ جاری کی تھی۔ اسرائیلی حکومت نے ان بندرگاہوں میں موجود افراد سے کہا کہ وہ فوراً ان علاقوں کو چھوڑ دیں۔ کچھ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے ان تین یمنی بندرگاہوں پر بمباری کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کوئی حملہ نہیں انصاراللہ کی کی بندرگاہوں بندرگاہوں پر صیہونی حکومت کہا کہ یمن یمن کی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم