عمران خان کی جنید اکبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن نے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا پیغام قیادت کو پہنچا دیا، بانی پی ٹی آئی کی بہن نے بانی پی ٹی آئی کا تحریری حکم چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکریٹری جنرل تحرک انصاف کو پہنچایا۔ اسلام ٹائمز۔ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے جنید اکبر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا پیغام قیادت کو پہنچا دیا، علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کا تحریری حکم بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو پہنچایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی کہ جنید اکبر مستعفی ہو کر پارٹی امور پر مکمل توجہ دیں اور خیبرپختونخوا میں ہر ہفتہ جلسے اور کنونشنز کا انعقاد کریں۔
ذرائع کے مطابق جنید اکبر کی جگہ عمر ایوب کو پی اے سی کا چیئرمین نامزد کر دیا گیا۔ اس حوالے سے جنید اکبر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جب کہیں گے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑ دوں گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، فی الحال کوئی مؤقف نہیں دینا چاہتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کا کی چیئرمین شپ جنید اکبر پی اے سی
پڑھیں:
بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جولائی 2026ء) یورپی یونین کے حکام کے مطابق اس پلیٹ فارم کے بعض ڈیزائن فیچرز بچوں کو جنسی استحصال کرنے والے افراد اور سائبر بُلیئنگ جیسے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
یہ الزامات ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت جاری کیے گئے ابتدائی نتائج کے بعد عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا لازم ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹک ٹاک کے خلاف یہ چوتھا بڑا مقدمہ ہے۔یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کے ٹیکنالوجی کے شعبے کا نگران ذیلی دفتر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے صارف اکاؤنٹس ڈی ایس اے کے حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
(جاری ہے)
یورپی کمیشن کے مطابق ٹک ٹاک بچوں کو اپنے اکاؤنٹس پبلک رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے ان کی پوسٹس ہر شخص کے لیے قابل رسائی ہو جاتی ہیں اور وہ سائبر بُلیئنگ یا آن لائن بدسلوکی کرنے والے افراد کے ساتھ رابطے میں آ جانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اکاؤنٹس رکھنے والے بچوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل نہیں، کیونکہ دوسرے صارفین کی 'فالونگ‘ اور 'فالورز‘ فہرستوں کے ذریعے ان کے اکاؤنٹس آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے افراد بھی انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں جن کا ٹک ٹاک پر اپنا کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔
یورپی کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کم عمر صارفین کے پبلک اکاؤنٹس کی ڈیفالٹ سیٹنگز تبدیل کی جائیں تاکہ ان کا مواد ازخود صرف انہی ٹک ٹاک صارفین کو نظر آئے جنہیں متعلقہ بچوں نے خود اجازت دے رکھی ہو۔
ٹک ٹاک کا ردعملدوسری جانب ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ یورپی کمیشن کے ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا جائزہ لے گا اور ریگولیٹر کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
اس کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا، ''ٹک ٹاک پر نوعمر صارفین کے اکاؤنٹس میں رجسٹریشن کے وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے تیار کردہ 50 سے زائد پرائیویسی اور حفاظتی فیچرز فعال ہوتے ہیں۔
‘‘اب ٹک ٹاک کو یورپی کمیشن کی دستاویزات کا جائزہ لینے اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد کمیشن اپنا حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔ اگر اس کمپنی کے خلاف عائد کردہ الزامات ثابت ہو گئے، تو ٹک تاک پر اس کی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹک ٹاک اس سے قبل بھی دو مقدمات میں ممکنہ جرمانوں سے بچنے کے لیے یورپی ریگولیٹرز کو مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہو چکا ہے، جبکہ اس کے خلاف ایک کیس میں تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
ادارت: مقبول ملک