دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی،نریندرمودی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک حالیہ تقریر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ہندوستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہندوستان پاکستان سے بات کرے گا تو صرف دہشت گردی اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کے بارے میں بات ہوگی۔
مودی نے اپنی تقریر میں زور دیتے ہوئے کہا، “ہندوستان کا مقصد بہت واضح ہے۔ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی، دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی، اور پانی اور خون بھی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔” انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا یہ مؤقف ہمیشہ سے وہی رہا ہے۔
مودی نے مزید کہا، “اگر ہم پاکستان سے بات کریں گے، تو صرف دہشت گردی کے بارے میں بات ہوگی۔ اگر ہم پاکستان سے بات کریں گے، تو پاکستانی زیر قبضہ کشمیر ان کے اوپر سب سے اوپر ہوگا۔”
یہ بیان ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے موجودہ ماحول میں سامنے آیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشمیر سمیت مختلف مسائل پر کشیدہ رہے ہیں۔ مودی کی یہ تقریر اس تناظر میں اہم ہے کہ یہ ہندوستان کے سخت مؤقف کو دوبارہ اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر دہشت گردی اور علاقائی دعووں کے تناظر میں۔
ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات کم از کم سطح پر ہیں، اور حالیہ برسوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مودی کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کسی بھی قسم کی بات چیت کے لئے دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
یہ بیان ہندوستانی قوم پرستی اور علاقائی سلامتی کے مؤقف کو مضبوط کرنے کے لئے بھی دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اندرون ملک سیاسی منظر نامے میں مودی کی قیادت کو تقویت دینے کے لئے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کی طرف سے اس بیان پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
7مزیدپڑھیں: مئی کو پاک بھارت فضائی جھڑپ پاکستان کی واضح کامیابی پر ختم ہوئی: امریکی جریدہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایک ساتھ نہیں دہشت گردی اور
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔