بھارت کی جانب سے کرتار پور راہداری نہ کھل سکی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
نارووال:
پاک بھارت سیز فائر کے بعد بھی بھارت کی جانب سے کرتار پور راہداری نہ کھل سکی ، بھارت کی جانب سے راہداری 6 اور 7 مئی کے بھارتی حملے کے بعد سے بند ہے ، پاکستان کی جانب سے کرتارپور ہداری معمول کے مطابق کھلی ہے, دربار انتظامیہ کا کہنا ہے ہم اپنے سکھ بھائیوں کی میزبانی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
دوسری طرف پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ اور وزیر برائے اقلیتی امور وانسانی حقوق پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھارت سے کرتار پور راہداری فوری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
مزید پڑھیں: مودی کی ساکھ بچانے کیلئے پنجاب کی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، بھارتی سکھ
صوبائی وزیر نے بھارت سمیت دنیا بھر کے سکھوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جون میں سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو جی کے شہیدی دن اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی منانے کیلئے وہ جب چاہیں پاکستان آسکتے ہیں ، ہمارے دروازے ان کیلئے ہروقت کھلے ہیں, پاکستان اور سکھوں کا رشتہ مضبوط ہے جس کی بنیاد سکھ ، مسلم دوستی پر قائم ہے ۔
سردار رمیش سنگھ نے ایکسپریس نیوز کے ساتھ وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت سمیت دنیا بھر کی سکھ برادری نے پاکستان کے موقف کا بھرپور ساتھ دیا جس پر پاکستان کی ریاست ، عوام اور حکومت سکھوں کی وفاداری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جانب سے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔