سونے کی فی تولہ قیمت 10 ہزار 400 روپے کم ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیر معمولی کمی ہوگئی، فی اونس نرخ 104 ڈالر اور فی تولہ 10 ہزار 400 روپے سستا ہوگیا۔
آل پاکستان صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن سے جاری اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 104 روپے کم ہوگئی، جس کے بعد نرخ 3221 ڈالر ہوگئے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 10 ہزار 400 روپے کمی سے تین لاکھ 40 ہزار 500 روپے اور دس گرام 8917 روپے سستا ہوکر 2 لاکھ 91 ہزار 923 روپے ہوگیا۔
جاری اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی 17 روپے کمی سے 3400 روپے اور فی اونس 0.
حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی فوجی ایدان الیگزینڈر کو رہا کردیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔