ڈیوڈ وارنر کی پی ایس ایل کے بقیہ میچز میں شرکت کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر اعتماد کا اظہار کر دیا۔
اس حوالے سے آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر پی ایس ایل کے بقیہ میچز میں شرکت کےلیے پاکستان واپس جائیں گے، وہ پی ایس ایل مکمل کرنے کےلیے بقیہ میچز میں شریک ہوں گے۔
آسٹریلوی میڈیا نے کہا کہ ڈیوڈ وارنر نے پی ایس ایل میں شرکت کی میڈیا کو تصدیق کی ہے۔ پی ایس ایل ملتوی ہونے کے بعد غیر ملکی کھلاڑی پاکستان سے چلے گئے تھے۔
آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ بین میکڈرموٹ بھی پی ایس ایل کےلیے دوبارہ پاکستان جانے کا پلان کر رہے ہیں۔
سیز فائر کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پی ایس ایل دوبارہ شروع کرنے کا پلان کر رہا ہے، پی سی بی نے پی ایس ایل کے دوبارہ شروع کرنے کے لیے فرنچائز سے میٹنگز کی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل فرنچائز نے پاکستان سپر لیگ 10 کے بقیہ میچز کےلیے 17 سے 25 مئی کی ونڈو پر اتفاق کرلیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایس ایل کے ڈیوڈ وارنر بقیہ میچز
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔