پاکستانی فضائی حدود بند، بھارتی ایئر لائنز کو 18 روز میں 400 کروڑ روپے کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
نئی دہلی/اسلام آباد: بھارتی پروازوں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کو 19 دن ہو چکے ہیں، اور اس دوران 2000 سے زائد بھارتی پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔ لمبے راستوں، اضافی ایندھن خرچ اور فضائی شیڈول کی بے ترتیبی کے باعث بھارتی ایئر لائنز کو 400 کروڑ روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق، امرتسر، دہلی، ممبئی، احمد آباد سمیت مختلف شہروں سے جانے والی پروازوں کو یومیہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ لمبے فلائٹ روٹس کے باعث فیول، عملے کے اخراجات، اور فلائٹ تاخیر میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود 24 بھارتی ائیرپورٹس بند ہیں اور رپورٹ کے مطابق 444 پروازیں آج منسوخ ہو چکی ہیں۔ سری نگر ایئرپورٹ سات دنوں سے بند ہے، روزانہ کی 65 پروازیں منسوخ ہورہی ہیں جبکہ لداخ (لیح کوشک) اور جموں ایئرپورٹ کی تمام 30 پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں۔
کئی ہوائی اڈوں پر تمام طیارے ہینگرز میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے باوجود بھارت نے اپنے 24 ہوائی اڈے تاحال بند رکھے ہیں، جس سے بھارتی عوام اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔