پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹ ٹیم کے چیمپیئنز ٹرافی مینٹورز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے چیئرمین پی سی بی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ دو ہفتے قبل انہوں نے خود پی سی بی کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتے قبل، میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو باقاعدہ طور پر مطلع کیا کہ میں بطور ڈومیسٹک کرکٹ مینٹور اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو رہا ہوں۔ یہ فیصلہ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد کیا اور اس حوالے سے اپنا تحریری استعفیٰ بھی جمع کرا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا مینٹورز کو عہدوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا بنی؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن جب میں نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی ذمہ داریوں پر غور کیا، تو مجھے اندازہ ہوا کہ متعدد ذمہ داریاں ایک ساتھ سنبھالنا میرے لیے ممکن نہ ہوگا، اور اس کا اثر پاکستان کرکٹ اور دیگر ذمہ داریوں پر پڑ سکتا ہے۔ سب کے ساتھ انصاف کے تقاضے کو مدِنظر رکھتے ہوئے، مجھے یقین ہے کہ یہ موزوں وقت ہے کہ میں یہ ذمہ داری چھوڑ دوں۔

Grateful to PCB for the opportunity but it’s time to move on from my role as a Mentor! ????

Thank you for your support! ???? pic.

twitter.com/IUEOX5DgKV

— Shoaib Malik ???????? (@realshoaibmalik) May 13, 2025

شعیب ملک کا کہنا تھا کہ میں چیئرمین پی سی بی جناب محسن نقوی، پی سی بی کی ایگزیکٹو ٹیم، اپنے سابق ساتھی اور ڈائریکٹر آف چیمپئنز ایونٹس وہاب ریاض، اسٹالینز کے کوچنگ اسٹاف، اور سب سے بڑھ کر اُن کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور مجھے اپنا تجربہ بانٹنے کا موقع دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت ترین کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنا میرے لیے ایک نہایت خوشگوار اور یادگار تجربہ رہا، جسے میں ہمیشہ اپنے دل میں سنبھال کر رکھوں گا۔ شعیب ملک نے کہا کہ میں پی سی بی اور تمام متعلقہ افراد کے لیے کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ کرکٹ میری رگوں میں دوڑتی ہے، اور میں مستقبل میں بھی کسی بھی حیثیت میں پاکستان کرکٹ کی خدمت کے لیے پرعزم ہوں۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیمپیئنز ٹرافی مینٹورز کو ہٹانے کا فیصلہ مینٹورز کی کارکردگی جانچنے کے بعد کیا گیا جس کی ہدایت چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے دی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد شعیب ملک، وقار یونس، ثقلین مشتاق، مصباح الحق اور سرفراز احمد کو بطور منیٹورز ان کے عہدوں سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق اور سرفرار احمد کو بورڈ کے اندر کوئی اور عہدہ دینے کا امکان موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ایس ایل پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ شعیب ملک مینٹورز کا استعفیٰ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ شعیب ملک مینٹورز کا استعفی پاکستان کرکٹ شعیب ملک پی سی بی کا کہنا کہ میں

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی